.

کالعدم مارکسِسٹ گروپ استنبول حملے کا ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک کالعدم مارکسسٹ گروپ نے استنبول میں ایک پولیس اسٹیشن پر منگل کے روز خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

مارکسسٹ انقلابی عوامی لبریشن پارٹی فرنٹ (ڈی ایچ کے پی۔ سی) نے بدھ کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ''ہماری ایک جانباز جنگجو خاتون نے سلطان احمد کے علاقے میں محکمہ سیاحتی پولیس پر فدائی حملہ کیا ہے''۔

استنبول کے سیاحتی مرکز سلطان احمد میں واقع پولیس اسٹیشن پر منگل کی شام خودکش بم حملے میں ایک اہلکار جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیاتھا جبکہ حملہ آور عورت بھِی ماری گئی تھی۔ اسی علاقے میں آغا صوفیہ عجائب گھر اور نیلی مسجد واقع ہے۔

کالعدم مارکسسٹ تنظیم ڈی ایچ کے پی سی کو ترکی کے علاوہ یورپی یونین اور امریکا نے دہشت گرد قراردے رکھا ہے۔اسی تنظیم نے گذشتہ ہفتے یکم جنوری کو استنبول میں صدارتی محل پر دستی بم کے حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔تاہم اس بم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

تنظیم نے کہا ہے کہ استنبول میں بم دھماکے کا مقصد حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہے۔اس سے ایک روز ایک حکم میں کہا گیا تھا کہ جن چار سابق وزراء پر بدعنوانی کا الزام عاید کیا گیا ہے،ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

یکم جنوری کو دستی بم کے دھماکے کے بعد اس تنظیم نے کہا تھا کہ اس نے یہ حملہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے میں زخمی ہونے کے بعد مارچ 2014ء میں ہلاک ہونے والے لڑکے برکین ایلوان کا بدلہ لینے کے لیے کیا ہے۔یہ لڑکا مئی اور جون 2013ء میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے دوران زخمی ہوگیا تھا اور 269 روز تک کومے میں رہا تھا۔

ڈی ایچ کے پی ۔سی نے خاتون بمبار کا نام ایلیف سلطان کالسین بتایا ہے۔ترک میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس عورت کی عمر پچیس چھبیس سال تھی اور وہ اس گروپ کی فعال رکن تھی۔

اس مارکسسٹ گروپ نے گذشتہ سال کے دوران ترکی اور بیرون ملک متعدد حملے کیے تھے۔اس نے فروری 2013ء میں انقرہ میں امریکی سفارت خانے پر خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس دھماکے میں ایک سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا تھا۔