.

امریکی اتحادیوں نے داعش پر 5 ہزار بم برسا دیے

عراق اور شام میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے عراق اور شام میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے اہداف پر اب تک قریباً پانچ ہزار بم برسائے ہیں اور ان کے نتیجے میں اس کے تین ہزار سے زیادہ ٹھکانوں ،ٹینکوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ عراق میں اگست اور شام میں ستمبر سے اتحادی طیاروں کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے داعش کے 58 ٹینکوں ،184 حموی بکتربند گاڑیوں ،303 پک اپ ٹرکوں ،26 آرمرڈ گاڑیوں اور 394 دوسری گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ان تباہ شدہ گاڑیوں میں سے زیادہ تر امریکی ساختہ ہیں اور وہ داعش کے جنگجوؤں نے عراقی فوج سے چھینی تھیں یا پھر جون میں عراق کے شمالی شہروں میں داعش کے جنگجوؤں کی یلغار کے وقت عراقی فوجی ان گاڑیوں کو چھوڑ کر میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرگئے تھے۔

امریکی فوج کے افسروں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ لڑاکا طیاروں کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں داعش کے کل کتنے ٹھکانے تباہ ہوئے ہیں۔تاہم امریکی فوج کے ترجمان کرنل اسٹیون وارن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''مجھے اعتماد ہے کہ تباہی کی سطح بہت بلند ہے''۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس وقت داعش کے زیر قبضہ اور کتنے ٹینک اور دوسری فوجی گاڑیاں ہیں۔

کرنل وارن کا کہنا تھا کہ ''فوج یہ نہیں کہنا چاہتی ہے کہ داعش کے تباہ ہونے والے ہتھیاروں یا گاڑیوں کی شرح کیا رہی ہے کیونکہ ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارا دشمن یہ جان لے کہ ہم اس کے بارے میں کیا کچھ جانتے ہیں''۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی اور عرب ممالک کے لڑاکا طیاروں نے اب تک 1676 فضائی حملے کیے ہیں اور 4775 بم گرائے ہیں۔امریکی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد سے داعش کی عراق میں پیش قدمی رُک چکی ہے۔اس کا خام تیل کو اسمگل کرنے کا نیٹ ورک ختم کردیا گیا ہے اور اس کی برسرزمین آزادانہ نقل وحرکت کی صلاحیت کو بھی محدود کردیا گیا ہے۔

لیکن امریکیوں کے ان دعووں کے باوجود داعش کے جنگجوؤں نے عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول برقرار رکھا ہوا ہے اور اس کی صفوں میں نئے جنگجوؤں کی بھرتی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

پینٹاگان کی جانب سے جاری کردہ ان اعدادوشمار سے صرف دو روز قبل ہی امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وہ عراق اور شام میں دو فضائی حملوں کی تحقیقات کررہے ہیں۔ان دونوں حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان کے علاوہ تین اور کیسوں کا بھی تحقیقات کے لیے جائزہ لیا جارہا ہے۔

امریکا اور اس اتحادی ممالک کے طیاروں نے داعش کے خلاف مہم کے دوران کل 15465 پروازیں کی ہیں۔ان میں لڑاکا مشن کے علاوہ ایندھن بھرنے اور نگرانی کے لیے پروازیں بھی شامل ہیں۔ان میں سے زیادہ تر پروازیں امریکی طیاروں ہی نے کی ہیں ۔تاہم امریکی حکام نے اپنے اتحادی ممالک کی داعش مخالف فضائی سرگرمیوں کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔