فرانسیسی اخبار حملہ، مسلمان معافی نہ مانگیں:قطری مدیر

سویڈن میں مساجد کو نذر آتش کرنے پر کیوں معافی نہیں مانگتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

قطر کے ایک اخبار کے مدیراعلیٰ کے ٹوئٹر پر اختیار کیے گئے اس موقف کہ مسلمان توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی اخبار پر حملے پر معذرت نہ کریں، ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس حملے میں آٹھ صحافی موقع پر ہلاک ہوئے ہیں ۔ جبکہ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے اس واقعے کو دہشت گردی کا نام دیا ہے۔

قطری اخبار کے مدیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ فرانس لیبیا میں مداخلت کے بہانے تلاش کر رہا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ایسے جرم کے لیے معافی نہیں مانگنی چاہیے جو ہم نے کیا ہی نہ ہو۔

اپنے ایک اور ٹویٹ کیے گئے بیان میں اپنے ایک فالوآر کا تبصرہ شامل کرتے ہوئے مدیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ '' مسلمان کیوں معافی مانگیں جب لندن میں مساجد کو آگ لگائی گئی تو کیا مسیحیوں یا برطانوی لوگوں سے کسی نے کہا کہ وہ معافی مانگیں؟

مدیر اعلیٰ الاثابہ کا موقف ہے کہ اس واقعے سے لگتا ہے کہ فرانس لیبیا پر حملے کا جواز تلاش رہا ہے، جیسا کہ اس طرح کے بہانے کی بنیاد پر مالی میں مداخلت کر چکا ہے۔

الاثابہ نے '' العربیہ نیوز '' کو ای میل کیے گئے ایک بیان میں کہا معصوم لوگوں پر حملہ منظور نہیں ہے، اس کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ نیز میں اپنی صحافی کمیونٹی کے قتل کے خلاف ہوں۔ لیکن ایسے واقعات کو اسلام اور مسلمانوں سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟

ایسے انتہا پسند عیسائیوں میں بھی ہیں یہودی بھی ہیں ۔ جیسا کہ ابھی تک کسی نے سویڈن میں مساجد کو نذر آتش کرنے اور جرمنی میں اسلام کے خلاف ریلیاں کیے جانے پر معافی نہیں مانگی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو ہی معذرت خواہانہ انداز کے لیے کہا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جو افراد ایسے اقدامات کے ذمہ دار ہوں ان کے ساتھ انفرادی سطح پر نمٹا جائے نہ کہ ان کے مذہب کو ان کی کارروائی کا حوالہ بنایا جائے۔

قطری مدیر نے کہا فرانسیسی عدلیہ کو چاہیے کہ اس معاملے کو سیاست کی نذر نہ ہونے دے اور نہ ہی اسے فرانس یا اس سے باہر یورپ میں کسی بھی جگہ مسلمانوں کے خلاف استعمال ہونے دے ۔

الاثابہ کے ان خیالات کو ٹویٹر پر بہت سے لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ایکر صارف نے کہا اگر فرانس اس واقعے کو لیبیا میں حملے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس کی کوئی دلیل دی جائے۔ ورنہ لوگوں کو آپ کے اس تجزیے سے دور ہی رہنا چاہیے۔

ایک اور صارف نے کہا اس نوعیت کے تبصرے قطر کے لیے فرانس میں مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ قاہرہ میں موجود تجزیہ کار یاسر عبدالعزیز نے کہا عرب صحافیوں کو پہلے صحافت اور صحافیوں پر ہونے والے حملے کی مذمت کرنی چاہیے اور کسی شہادت کے بغیر اہسے واقعات کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں