.

پیرس حملہ :ایک مشتبہ حملہ آور سرنڈر

پولیس نے دو حملہ آوروں کی شمالی فرانس میں موجودگی کا سراغ لگا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کے تین مشتبہ ملزموں میں سے ایک نے خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے جبکہ باقی دو حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔پولیس نے ان دونوں بھائیوں کی فرانس کے شمالی علاقے میں موجودگی کا سراغ لگا لیا ہے۔

فرانسیسی وزیراعظم مینول والس نے جمعرات کو بتایا ہے کہ اخبار کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کرنے کے الزام میں متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔انھوں نے آر ٹی ایل ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو مشتبہ حملہ آوروں کا ابھی پتا نہیں چل سکا ہے لیکن انٹیلی جنس ادارے ان کی شناخت سے آگاہ ہیں اور ان کی بدھ کو حملے سے قبل بھی نگرانی کی جارہی تھی۔

پراسیکیوٹر کے دفتر کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ایک مشتبہ ملزم حمید مراد نے خود کو پیرس سے شمال مشرق میں بیلجئیم کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے چارلویلے میزائرس میں خود کو پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

فرانس کے بی ایف ایم ٹی وی نے غیر شناختہ ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ اس اٹھارہ سالہ نوجوان نے اپنا نام سوشل میڈیا پر آنے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ حملے میں مطلوب دونوں بھائیوں کے قریبی حلقے میں شامل لوگوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے حملے کے بعد ایک دستاویز جاری کی ہے اور اس میں ان دونوں حملہ آوروں کی شناخت بتائی گئی ہے۔ایک مشتبہ ملزم کا نام سعید کواشی ہے۔وہ 1980ء میں پیدا ہوا تھا۔دوسرے مشتبہ حملہ آور کا نام شریف کواشی ہے اور وہ سنہ 1982ء میں پیدا ہوا تھا۔یہ دنوں بھائی پیرس سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے شریف کواشی کی شناخت اس کے شناختی کارڈ سے ہوئی ہے اور وہ اس سے اخبار کے دفتر پر حملے کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے گر گیا تھا۔اس کے خلاف 2005ء میں دہشت گردی کے الزامات پر مقدمہ چلایا گیا تھا اور اس کو اٹھارہ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

وہ اسلامی جنگجوؤں کے ایک سیل کا بھی حصہ رہا تھا جو پیرس کے مشرقی علاقے میں واقع ایک مسجد میں فرانسیسی شہریوں کو عراق میں امریکیوں سے جنگ کے لیے بھرتی کیا کرتا تھا۔اس کو عراق کے لیے روانہ ہونے سے قبل گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پولیس نے جمعرات کی صبح ان دونوں بھائیوں کی تصاویر شائع کی ہیں اور ان دونوں کو ''مسلح اور خطرناک'' قرار دیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی پولیس نے ان دونوں مشتبہ افراد اور ان سے روابط رکھنے والے افراد کی تلاش میں پیرس ،اسٹراسبرگ اور ریمس میں چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

فرانس میں قومی سوگ

دو مسلح حملہ آوروں نے گذشتہ روز مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑانے اور سنہ 2006ء اور 2011ء میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو کے پیرس میں واقع دفاتر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے ردعمل میں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے بدھ کی شب ایک نشری تقریر میں کہا کہ ''آج پورے فرانس کو ہدف بنایا گیا ہے''۔ان کے اعلان کے بعد آج جمعرات کو فرانس میں تشدد کے اس واقعے میں مرنے والوں کی یاد میں قومی سوگ منایا جارہا ہے۔

ابھی تک کسی جنگجو تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔تاہم ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ایک حملہ آور نے کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔

سوشل میڈیا کی سائٹس پر داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں نے اس حملے کو سراہا ہے جبکہ یورپی حکومتوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ عراق اور شام میں لڑنے والے مغربی جنگجو اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے کے بعد حملے کرسکتے ہیں۔

فرانس کے ایک سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس دو نقاب پوش مسلح افراد کو ایک سڑک پر بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔وہ ایک شاہراہ پر زخمی حالت میں گرے ہوئے پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد اللہ اکبر کا نعرہ بلند کررہے ہیں۔ایک اور ویڈیو کلپ میں دونوں حملہ آور فرانسیسی زبان میں یہ کہتے ہوئے سنے جاسکتے ہیں کہ ''ہم نے چارلی ہیبڈو کو ہلاک کردیا ہے اور ہم نے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لے لیا ہے''تاہم ان ویڈیوز میں تیسرا حملہ آور کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔

پیرس کے پراسیکیوٹر فرانسو مولنس نے بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے عمارت کے داخلی دروازے پر موجود ایک شخص کو ہلاک کیا۔اس کے بعد وہ دوسری منزل پر چلے گئے جہاں اخبار کا ادارتی اجلاس ہورہا تھا۔انھوں نے فائرنگ کرکے آٹھ صحافیوں کو ہلاک کردیا۔اس دوران میگزین کے ایڈیٹوریل ڈائریکٹر کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار اور ایک مہمان بھی ان کی گولیوں کا نشانہ بن گیا اور وہ دونوں بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔