ایران میں سالانہ 500 ٹن منشیات کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں محکمہ انسداد منشیات کے چیئرمین علی رضا جزینی نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک میں سالانہ 500 ٹن منشیات استعمال کی جاتی ہے۔ منشیات میں 85 فی صد افیون اور 35 فی صد ہیروئین استعمال ہوتی ہے۔

ایرانی عہدیدار نے تسلیم کیا ہے کہ دنیا بھرمیں منشیات پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک افغانستان کا پڑوسی ہونے کے ناطے اسلامی جمہوریہ ایران منشیات کی بین الاقوامی ٹریفیکنگ کی اہم ترین گذرگاہ ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان کے محکمہ انسداد منشیات کی ویب سائٹ پر جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس 6400 ٹن منشیات بیرون ملک اسمگل کی گئی۔ یہ مقدار سنہ 2013ء کے مقابلے میں .17 فی صد زیادہ ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی‘‘ایرنا‘‘ کے مطابق انسداد منشیات سے متعلق ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی رضا جزینی نے کہا کہ ملک میں منشیات کے استعمال اور اس کی تیاری کی وجہ سے معیشت کو سالانہ تین ارب ڈالر کے مساوی نقصان پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خسارے کا 47 فی صد سامنا منشیات کا دھندا کرنے والوں، 24 فی صد حکومت کو اور 29 فی صد پوری قوم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین پر تشدد کے سالانہ 65 فی صد واقعات، طلاق کے 55 فی صد کیسز اور بچوں پر تشدد کے 20 فی صد واقعات کے پس پردہ منشیات کا استعمال ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ملک میں کم عمر افراد میں منشیات کے استعمال کا دھندہ تشویشناک حد تک زور پکڑ رہا ہے۔ ملک کے طول عرض میں رپورٹ ہونے والے واقعات سے پتا چلا ہے کہ 15 سال سے کم عمر کے افراد اور اسکولوں کے طلباء بھی اس دھندے کی طرف جا رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق اسکولوں کے ایک فی صد طلبا نشہ کرتے ہیں۔ ان میں 60 فی صد طلباء کریسٹل جیسی خطرناک منشیات استعمال کرتے ہیں۔ سائنس کے شعبے سے وابستہ 6.2 فی صد طلباء منشیات استعمال کرتے ہیں جبکہ میڈیکل کے تین فی صد طلباء منشیات استعمال کرتے ہیں۔ طلباء میں منشیات کے استعمال کی شرح 26 فی صد تک بڑھ چکی ہے جس کے نتیجے میں حکومت سخت پریشان ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں