.

شام میں القاعدہ مغرب پر حملوں کی سازش کررہی ہے:برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کی سکیورٹی سروس (خفیہ ایجنسی) ایم آئی 5 کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ شام میں برسرپیکار القاعدہ کے جنگجو مغرب میں ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جن کے نتیجے میں زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوں اور وہ ممکنہ طور پر ٹرانسپورٹ نظام اور دوسرے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایم آئی 5 کے ڈائریکٹر جنرل اینڈریو پارکر نے ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ ''شام میں القاعدہ کے جنگجوؤں کا ایک کور گروپ ان حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے''۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ''برطانیہ میں اس طرح کے حملے کا بہت زیادہ امکان ہے''۔

ان کی یہ تقریر پہلے سے طے شدہ تھی لیکن اس دوران پیرس میں بدھ کو توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار کے دفاتر پر حملے کا واقعہ رونما ہوگیا ہے۔ ''چارلی ہیبڈو'' کے دفاتر پر دو مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ اینڈریو پارکر آخری مرتبہ اکتوبر 2013ء میں عوام میں نمودار ہوئے تھے۔

پارکر نے کہا کہ قریباً چھے سو برطانوی انتہا پسند شام گئے ہیں اور وہ وہاں مسلح گروپوں میں شامل ہوکر خانہ جنگی میں شریک ہیں۔ان میں زیادہ تر خود کو دولت اسلامی (داعش) کہلانے والے گروپ میں شامل ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں داعش کے جنگجو برطانیہ پر حملوں کی سازش کررہے ہیں اور وہ برطانوی شہریوں کو تشدد پر ابھارنے کے لیے سوشل میڈیا کا بھِی استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ایم آئی 5 نے حالیہ مہینوں کے دوران برطانیہ میں دہشت گردی کے ممکنہ تین تباہ کن حملوں کو ناکام بنایا ہے اور اس وقت ہمیں بہت ہی پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔

انھوں نے انٹرنیٹ پر جنگجوؤں کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے خفیہ ایجنسی کو مزید اختیارات دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سکیورٹی سروسز کو انٹرنیٹ پر ابلاغ تک رسائی ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''ایم آئی 5 کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے میرے لیے تشویش کی سب سے بڑی وجہ بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کے مقابلے کے لیے کم ہوتی ہوئی دستیاب صلاحیتوں میں خلیج ہے''۔

مسٹر پارکر کا کہنا تھا کہ ''تاریک جگہوں سے ہمیں نقصان پہنچانے کے خواہاں جنگجو سازش کرسکتے ہیں۔ہمیں ان لوگوں کی پیغام رسانی اور ابلاغیات تک رسائی ہونی چاہیے تا کہ ہمیں ان لوگوں سے متعلق متعلقہ ڈیٹا مل سکے''۔

یادرہے کہ ایم آئی 5 سنہ 1909ء میں پہلی عالمی جنگ سے قبل جرمنی کی جاسوسی کی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔برطانیہ کی ایک اور خفیہ ایجنسی نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ٹویٹر اور فیس بُک جنگجوؤں کے لیے بہت اہم بن چکے ہیں،اس لیے ان اداروں کو اپنے مواد تک سکیورٹی سروسز کو زیادہ رسائی دینی چاہیے۔

القاعدہ نے 7 جولائی 2005ء کو لندن میں مسافر ٹرین میں خود کش بم دھماکے کیے تھے جن کے نتیجے میں باون افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔اس سے پہلے القاعدہ کے جنگجوؤں نے 11 ستمبر 2001ء کو مسافر طیاروں کو اغوا کرنے کے بعد امریکا پر حملے کیے تھے۔نیویارک میں طیارہ حملے میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے تباہ ہونے سے قریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ اب تک القاعدہ کا کسی مغربی ملک میں سب سے بڑا حملہ ہے۔