''فرانس دہشت گردی سے حالتِ جنگ میں ہے''

کسی مذہب یا تہذیب کے خلاف جنگ نہیں لڑرہے ہیں:وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزیراعظم مینول والز نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے،مذہب سے نہیں۔

انھوں نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں،ہم دین کے خلاف یا کسی تہذیب کے خلاف جنگ نہیں لڑرہے ہیں''۔

انھوں نے یہ بیان بدھ کو پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر دو بھائیوں کے حملے کے بعد جاری کیا ہے۔اس حملے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

فرانسیسی پولیس ابھی تک ان دونوں بھائیوں کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔البتہ اس نے کہا ہے کہ ان دونوں حملہ آور بھائیوں کو پیرس کے شمال میں واقع قصبے دمارتن این گوئلے میں کارنر کر لیا گیا ہے۔

فرانسیسی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ''انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اب نئے اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں اگست 2013ء کے بعد پانچ حملوں کوناکام بنایا گیا ہے۔ہم یہ جانتے تھے کہ ہم پر حملہ ہوسکتا ہے لیکن ہمیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ فرانس اس واقعے کے نتیجے میں زیادہ مضبوط بن کر اُبھرے گا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''دہشت گرد کیا چاہتے ہیں،یہی کہ وہ خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ فرانسیسیوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اس واقعے سے اور مضبوط ہوں گے''۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ''اتحاد ان کے ملک کا بہترین ہتھیار ہے۔کوئی چیز ہمیں تقسیم نہیں کرسکتی ہے،ہمیں کوئی چیز جدا نہیں کرسکتی ہے۔آزادی ہمیشہ بربریت سے مضبوط ہوگی''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں