.

مسجد نبوی توسیع: نمازیوں کی گنجائش سولہ لاکھ ہو گی

پانچ ہزار کارکن ''راونڈ دی کلاک'' تعمیرات مین مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسجد نبوی کی توسیع کے دوہزار چودہ میں شروع ہونے والے عظیم الشان منصوبے کے تحت پانچ ہزار کی تعداد میں کارکن ''راونڈ دی کلاک'' کام کر رہے ہیں۔ ان پانچ ہزار کارکنوں میں انجیئیرز، تکنیک کار اور مزدور شامل ہیں۔

توسیع منصوبے کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ شیخ عبدالواحد الخطاب نے کہا مسجد کے مشرقی جانب نوے فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ کام شمال مشرق کی طرف جاری ہے۔

اس توسیعی منصوبے کے لیے مسجد نبوی میں شاہ عبداللہ نے سنگ بنیاد چوبیس ستمبر دوہزار بارہ میں رکھا تھا۔ بعدازاں مارچ دوہزار تیرہ میں مسجد کی توسیع کے ماسٹر پلان کی منظوری دی۔ شاہ عبداللہ نے حکم دیا کہ دوسال میں منصوبہ مکمل کیا جائے۔

مسجد کے توسیعی منصوبے کے تحت مسجد مجموعی طور پر گیارہ لاکھ مربع میٹر پر محیط ہو جائے گی۔ نتیجتاً سولہ لاکھ نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکیں گے۔ پہلے مرحلے میں مسجد کے شمال میں دو منزلہ عمارت تعمیر مکمل ہوگی۔ جبکہ مسجد نبوی کے سارے ڈھانچے کو ایک چھت دی جائے گی۔

نئی تعمیرات میں مسجد کا ایک مرکزی دروازہ دو میناروں کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ جبکہ مسجد نبوی کی دو اطراف میں کونوں پر بھی دو مینار ہوں گے۔ پہلے مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ہی نمازیوں کی گنجائش آٹھ لاکھ ہو جائے گی۔

دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مشرقی اور مغربی اطراف میں صبح مسجد نبوی میں شامل کیے جائیں گے۔ اس طرح مزید آٹھ لاکھ نمازیوں کی گنجائش پیدا ہو جائے گی۔ مسجد نبوی میں ستائیس نئے گنبد بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

دھوپ سے بچاو کے لیے بنائی گئی چھتری نما چھت سے بھی دولاکھ نمازیوں کو فائدہ ہو گا۔ یہ انتظام فائر پروف بنایا جائے گا۔ تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔

توسیعی منصوبے میں مسجد سے ایک ہیلی پیڈ بھی ملحق ہو گا تاکہ کسی نمازی کے اچانک بیمار ہونے کی صورت میں اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا جا سکے۔

اس عظیم الشان توسیعی منصوبے کے تحت حرم کے مرکزی حصے کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی کے ارد گرد غیر منظم تعمیرات کو بھی بہتر کیا جائے گا۔