.

چارلی ہیبڈو پر حملہ، دونوں مشتبہ بھائی ہلاک

فرانسیسی کمانڈوز کی کارروائی میں دونوں مارے گئے،یرغمالی بازیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت پیرس میں دو روز پہلے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے دفتر میں بارہ افراد کی ہلاکت کے ذمے دار دونوں مشتبہ بھائیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس نے دونوں بھائیوں کا پیرس کے شمال مشرق میں واقع علاقے دمارتین این گوئلے میں جمعہ کی صبح سے ایک پرنٹنگ ہاؤس میں گھیراؤ کررکھا تھا۔انھوں نے اپنے ساتھ بعض لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔فرانسیسی کمانڈوز نے اس عمارت پر دھاوا بول دیا تھا جس کے بعد وہاں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

اس علاقے کی خاتون ترجمان عودرے تاؤپیناس نے قبل ازیں بتایا تھا کہ حکام نے مشتبہ حملہ آوروں سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کر لیا ہے تاکہ نزدیک واقع اسکول میں موجود بچوں کا انخلاء کیا جاسکے اور انھوں نے اس سے اتفاق کیا تھا۔دونوں حملہ آوروں کی ہلاکت کے بعد پرنٹنگ ہاؤس سے یرغمالیوں کو بازیاب کرانے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔

ایک رکن پارلیمان وائی ویس البارلو کے بہ قول دونوں بھائیوں نے جمعہ کو آئی ٹیلی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شہید ہونا چاہتے ہیں۔فرانسیسی وزارت داخلہ کے ترجمان پائیرے ہینری برانڈٹ کا کہنا تھا کہ ''ان کی ترجیح اس بحران کو کسی تشدد کے بغیر حل کرنا ہے''۔

پولیس نے علاقے کا صبح سے ہی محاصرہ کررکھا تھا جبکہ فضا میں تین ہیلی کاپٹر پروازیں کرتے رہے ہیں۔اس دوران پیرس کے چارلس ڈی گال ہوائی اڈے کے دو رن وے طیاروں کی آمد ورفت کے لیے بند کردیے گئے تھے تا کہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔

دمارتین این گوئلے کی انتظامیہ نے مکینوں سے اپنے گھروں ہی میں رہنے کی اپیل کی ہے۔دونوں مشتبہ حملہ آوروں نے جمعہ کی صبح نزدیک واقع ایک قصبے سے ایک کار اغوا کرلی تھی۔اس کے بعد وہ دمارتین این گوئلے کی جانب آگئے تھے اور پولیس نے ان کا پرنٹنگ ہاؤس کی عمارت میں گھیراؤ کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں حملہ آور نقاب پوش بھائیوں شریف اور سعید کواشی کی شناخت موخر الذکر کے شناختی کارڈ سے ہوئی تھی۔سعید کا شناختی کارڈ اخبار کے دفتر پر حملے کے بعد فرار ہوتے ہوئے کار میں گر گیا تھا اور وہ یہ چھینی ہوئی کار سڑک پر ہی چھوڑ کر ایک اور کار میں فرار ہوگئے تھے۔

بدھ کو پیرس میں چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کے بعد سے فرانس کی سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو کسی اور ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے چوکس کردیا گیا ہے اور ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔