پیرس: گراسری اسٹورمیں چار یرغمالی اور حملہ آور ہلاک

پولیس کی کواشی برادران کو ہلاک کرنے کے بعد کوشور اسٹور میں کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مشرقی علاقے میں یہودیوں کے ملکیتی ایک گراسری اسٹور میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کواشی برادران کا ساتھی اغوا کار اور اس کے ہاتھوں یرغمال چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی پولیس نے پیرس کے شمال مشرقی علاقے میں چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے میں مطلوب دونوں مشتبہ بھائیوں کو ہلاک کرنے کے بعد یہود کے ملکیتی گراسری اسٹور میں دھاوا بولا تھا جس کے بعد وہاں سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

اس سے پہلے جمعہ کی دوپہر ایک مسلح شخص نے گراسری اسٹور میں دھاوا بولنے کے بعد متعدد افراد کو اسلحے کی نوک پر یرغمال بنا لیا تھا۔ اس شخص نے دھمکی دی تھی کہ اگر کواشی برادران کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ یرغمال افراد کو ہلاک کردے گا۔ اس نے فائرنگ کرکے متعدد افراد کو زخمی کردیا تھا اور بعض گراسری اسٹور سے فرار کی کوشش کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

اس مسلح حملہ آور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے ہی جمعرات کو پیرس میں ایک شاہراہ پر فائرنگ کرکے ایک خاتون پولیس افسر کو ہلاک کردیا تھا۔ذرائع کے مطابق اس نے کوشر گراسری اسٹور میں پانچ افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور ان میں سے دو کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے اس اسٹور کا محاصرہ کر لیا تھا۔

قبل ازیں ایک ذریعے نے بتایا کہ ''گراسری اسٹور میں دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں اورمرنے والوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے''۔برطانوی اخبار گارجین نے اپنے نمائندے کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ اسٹور کے ملازمین اور آنے والے گاہک اس کے بیسمنٹ میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک عینی شاہد کے مطابق اس سپر مارکیٹ کے نزدیک واقع دکانوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

اس گراسری اسٹور میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے اس مسلح شخص کے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ بدھ کو ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر حملہ کرنے والے دونوں بھائیوں میں سے ایک شریف کواشی کا ماضی میں ساتھی رہا ہے۔ایک پولیس ذریعے نے بھی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ آور اسی جہادی گروپ سے تعلق رکھتا ہے جس سے کواشی برادران کا تعلق رہا ہے۔

ایک اور عینی شاہد نے بتایا ہے کہ یہ مسلح شخص افریقی ہے اور اس نے اسٹور میں آتے ہی اپنی کلاشنکوف رائفل سے فائرنگ شروع کردی تھی۔اس کے بعد پولیس نے فوری طور پر علاقے کا محاصرہ کر لیا اور ایک ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کررہا تھا۔

فرانسیسی پولیس نے کوشر سپر مارکیٹ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے دو مشتبہ افراد کے نام جاری کیے تھے۔ان میں ایک کا نام بتیس سالہ آمدی کولیبیلے ہے۔دوسری اس کی بیوی ہے اور اس کا نام حیات بوم الدین ہے۔

فرانسیسی اخبار لی موندے کی رپورٹ کے مطابق حیات بوم الدین سنہ 2010ء سے کولیبیلے کی شریک حیات ہے اور وہ اس کے جیل میں قید کے عرصے کے دوران اس کے گھر ہی میں رہتی رہی ہے۔کولیبیلے پر شُبہ ہے کہ وہ بھی چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے میں شریک تھا۔

وہ پہلی مرتبہ 2010ء ہی میں ایک مشتبہ حملہ آور شریف کواشی کے ساتھ دیکھا گیا تھا اور ان دونوں سے فرانس میں ایک جیل کو توڑنے کی سازش کی تحقیقات بھی کی گئی تھی۔کولیبیلے کو اس واقعے میں مجرم ٹھہرایا گیا تھا اور اس کو جیل توڑنے کی سازش کے الزام میں قید کی سزا ہوئی تھی۔اس کا نام انسدادِ دہشت گردی پولیس کے لیے جانا پہچانا تھا۔

لی موندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مذکورہ دونوں مشتبہ حملہ آور سزایافتہ دہشت گرد جمیل بیغال کے پکے پیروکار تھے۔ان کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے بھی پتا چلتا ہے کہ وہ دونوں فرانس کے جنوب میں واقع بیغال کے گھر میں آتے جاتے رہے تھے۔ آج وہ دونوں پیرس میں پولیس کی دو الگ الگ کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں