''سعید کواشی یمنی القاعدہ کا تربیت یافتہ تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والے کواشی برادران میں سے ایک نے یمن میں تعلیم پائی تھی اور وہ القاعدہ کے تربیتی کیمپوں میں بھی شریک رہا تھا۔ دونوں مشتبہ بھائی جمعہ کو فرانسیسی کمانڈوز کی کارروائی میں مارے گئے ہیں۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ سعید کواشی سنہ 2009ء سے 2013ء کے درمیان متعدد مرتبہ یمن میں موجود پایا گیا تھا۔ وہ پہلے صنعا میں جامعہ الایمان میں زیر تعلیم رہا تھا۔اس کے بعد وہ یمن کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں میں القاعدہ کے زیر انتظام کیمپوں میں زیرتربیت رہا تھا۔

سعید کواشی کے ایک سابق یمنی ہم جماعت نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس مقتول حملہ آور نے سنہ 2009ء میں جامعہ الایمان میں داخلہ لیا تھا۔اس ادارے کے سربراہ بنیاد پرست مبلغ عبدالمجید الزندانی ہیں۔امریکا نے ان کا نام دہشت گردوں کی بلیک لسٹ میں شامل کررکھا ہے۔

سعید کواشی اور ان کے چھوٹے بھائی شریف کواشی نے بدھ کو مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑانے اور سنہ 2006ء اور 2011ء میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے پیرس میں واقع دفاتر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے تھے۔

کسی جنگجو تنظیم نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔تاہم ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ ایک حملہ آور نے فائرنگ کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔

فرانس کے ایک سرکاری ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس دو نقاب پوش مسلح افراد کو سڑک پر بھاگتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔ایک اور ویڈیو کلپ میں دونوں حملہ آور فرانسیسی زبان میں یہ کہتے ہوئے سنے گئے تھے کہ ''ہم نے چارلی ہیبڈو کو ہلاک کردیا ہے اور ہم نے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لے لیا ہے''۔

امریکی حکام کے مطابق یمنی انٹیلی جنس اس بات سے آگاہ تھی کہ سعید کواشی نے 2011ء میں یمن کا سفر کیا تھا اور وہاں القاعدہ کی علاقائی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں ہلکے ہتھیار چلانے کی تربیت پائی تھی۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ جنوری 2009ء میں القاعدہ کی یمن اور سعودی عرب میں شاخوں کے انضمام کے بعد معرض وجود میں آئی تھی۔امریکا اس کو جہادی نیٹ ورکس کی سب سے خطرناک شاخ قرار دیتا رہا ہے۔امریکا نے یمن میں القاعدہ کی اس شاخ سے وابستہ جنگجوؤں پر متعدد ڈرون حملے کیے ہیں اور یمنی فورسز کے ساتھ مل کر ملک کے جنوب میں کارروائیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

سعيد كواشي
سعيد كواشي
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں