.

فحش مناظر دکھانے پر تین ترک چینلز کو جرمانہ

جرمانہ اعلی ترین قومی ادارے کیطرف سے کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں تین ٹی وی چینلز کو فحاشی و عریانی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے جرمانہ کیا گیا ہے۔ یہ جرمانہ ملک میں ذرائع ابلاغ کے مواد پر نظر رکھنے والے اعلی ترین ادارے کی طرف سے کیا گیا ہے۔

جرمانے کی رقم جسے ہر متعلقہ ٹی وی چینل کو ادا کرنے کا الگ الگ پابند قرار دیا گیا ہے پانچ ہزار تین سو اکیاسی امریکی ڈالر ہے۔ ترکی کی کرنسی کے مطابق جرمانے کی یہ رقم بارہ ہزار تین سو ترپن لیرے ہے۔

ان چینلز پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک خاتون کو عریاں دکھایا تھا اور اس کے علاوہ فحش مناظر بھی ٹیلی کاسٹ کیے تھے۔ ان مناظر میں کنڈومز کے استعمال کے حوالے سے بھی کھلی بات چیت شامل تھی۔

ان دنوں مسلم ممالک کے نجی ٹی وی چینلز بھی ایسا مواد دکھانے میں مغربی ملکوں کی نقالی کر رہے ہیں جو فحاشی اور عریانی کے علاوہ مسلم معاشرے کی اقدار کے بھی منافی ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں ایک نجی ٹی وی نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے جنسی موضوع پر سوال و جواب پر مبنی پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پاکستانی چینل کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس نے یہ پروگرام بطور خاص خواتین کے لیے شروع کیا ہے۔ تاہم پاکستان میں اس بنیاد پر جرمانے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

ترکی میں جن چینلز کو جرمانہ کیا گیا ہے انہوں نے ایک چینل نے بیڈ روم کے انتہائی نجی ماحول میں مردوزن کے اختلاط کے حوالے سے فلمی منظر پیش کیا تھا۔

ترکی میں ذرائع ابلاغ کے مواد پر نظر رکھنے والے ادارے نے ایم جی ایم نامی ٹی وی کو ایک مرد کو دو خواتین کے ساتھ اختلاط کی حالت میں دکھایا تھا۔ اسی طرح لزبین عورتوں کے حوالے سے بھی انتہائی فحش مناظر دکھائے تھے۔

جبکہ ٹی وی ٹو کو نوجوانوں اور بچوں کو جسمانی، ذہنی اور اخلاقی طور پر نقصان پہنچانے کے سبب جرمانہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے ترک قوانین کے مطابق ایسا کرنا ناجائز ہے۔