.

محبوبہ کو رازوں کی فراہمی، پیٹریاس کو تحقیقات کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی 'سی آئی اے' کے سابق چیف اور افغانستان میں امریکی فوجی مشن کے سابق سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس اپنی محبوبہ کو اہم فوجی راز فراہم کرنے کے الزام کے بعد منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ دوسری جانب 'سی آئی اے' اور وزارت قانون نے مسٹر پیٹریاس کے خلاف فوجی مقدمہ چلانے کی سفارش کرتے ہوئے تحقیقات کا از سر نو آغاز کیا ہے۔

اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق خفیہ اداے اور وزارت قانون کی جانب سے ڈیوڈ پیٹریاس کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ دونوں اداروں کے مندوبین نے پیٹریاس پر الزام عاید کیا ہے کہ انہوں نے ریزرو فوج میں شامل ایک خاتون افسر، جو مبینہ طور پر موصوف کی معشوقہ بھی تھی، کو اہم فوجی راز فراہم کیے تھے۔

امریکی وزارت قانون کے تحقیق کاروں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کو بتایا کہ وہ ڈیوڈ پیٹریاس کی جانب سے خاتون اہلکار پائولا برڈویل کو خفیہ ادارے کی جانب سے فراہم کردہ ای میل کے ذریعے حساس نوعیت کی معلومات فراہم کرنے کے الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وزارت انصاف کی جانب سے ڈیوڈ پیٹریاس کے خلاف فوجی راز افشاء کرنے کا الزام اپنی نوعیت کا ایک سنگین کیس ہے اور ہم اس جرم کی صحت کی مکمل جان کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیوڈ پیٹریاس سنہ 2012ء میں اس وقت سی آئی اے کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے جب ان پر اپنی ایک قریبی خاتون افسر کے سامنے اہم فوجی راز افشاء کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ ڈیوڈ پیٹریاس امریکا کے سرکردہ عسکری رہ نمائوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ عراق اور افغانستان کے پرخطر محاذوں پر بھی فوج کی کمان کر چکے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ وہ پائولا بروڈویل کو اس وقت اہم فوجی راز فراہم کیے تھے جب وہ ان کی سوانح عمری مرتب کر رہی تھی۔ پیٹریاس کے وکیل رابرٹ بارنیٹ نے تازہ تحقیقات پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔