.

بیرون ملک مقیم امریکی دہشت گردوں سے چوکس رہیں: امریکی انتباہ

صدر اوباما کی دہشتگردی کے خلاف فرانس کو ہرممکن مدد کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے توہین آمیز کارٹون شائع کرنے والے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی روشنی میں امریکا سے باہر مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے مزید حملے ہو سکتے ہیں۔ فرانس میں جریدے چارلی ہیبڈو پر حملے کے مسلسل تیسرے دن تک فرانس پولیس دہشت گردوں کا تعاقب کرتی رہی ہے اور اس دوران بھی مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکا کی طرف سے اپنے شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے جاری کردہ وارننگ میں کہا گیا ہے کہ '' حالیہ دہشت گردانہ حملے خواہ ان حملہ آوروں کا تعلق دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہو یا ان کا انفرادی معاملہ ہو ہمارے شہریوں کو چاہیے کہ وہ سخت چوکس رہیں اپنی حفاظت کے لیے آگاہی میں اضافہ کریں۔ '' اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے ایسی ہی ایک وارننگ دس اکتوبر دوہزار چودہ میں جاری کی گئی تھی۔

اب تازہ ترین وارننگ فرانس میں تین دن مسلسل دہشت گردی کے واقعات اور خوف کے ماحول میں جاری کی ہے۔ ان تین دنوں کے دوران کم از کم ایک درجن فرانسیسی شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کم از کم دو حملہ آوروں کو پولیس نے ایک طویل تعاقب کے بعد ہلاک کیا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی صدر براک اوباما نے نے جمعہ کے روز فرانسیسی شہریوں کو یرغمال بنائے جانے اور ہلاک کیے جانے کے واقعے کے بعد فرانس کو دہشت گردی کے خلاف ہر طرح کے تعاون کی پیش کش کی ہے۔ اوباما نے اس پیش کش میں کہا '' میں اہل فرانس کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکا آپ کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ بھی آپ کے ساتھ رہے گا۔''

اس موقع پر صدر اوباما نے فرانس کو امریکا کا قدیمی اتحادی قرار دیا اور کہا فرانس میں پیش آنے والے واقعات کے بعد ہم نے اپنے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کر دی ہے کہ اپنے اس اتحادی کی ہر ممکن مدد کے لیے تیار رہیں۔''

امریکی صدر نے یہ بات فرانسیسی جریدے پر حملے کے کچھ ہی دیر بعد کی تھی۔ بعدازاں فرانس پولیس نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے دو بھائی دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور شہریوں کو یرغمال بنائے جانے کے بعد بھر پور کارروائی کر کے دونوں کو ہلاک کر دیا۔