.

''سعودی عوام سینیما اور تھیٹر کے لیے تیار ہیں''

ہر گھر میں ٹی وی موجود ہیں، مخالف کل حامی ہوں گے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عوام جو سوال بار بار پوچھتے ہیں وہ یہ کہ ہمارے ہاں تھیٹر اور فلموں کے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے۔ اس سوال کا جواب کبھی بھی اطیمنان بخش نہیں ہوا ہے بلکہ ہمیشہ الجھاوے کا شکار ہوتا ہے ۔ ان میں سے کچھ کے لیے تھیٹر انٹرٹینمنٹ کے لیے ہیں اور بعض کا ان کے حوالے سے تجربہ تعلیمی ہے۔

قطع نظراس کے کہ وہ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔ یہ بات سب کہتے ہیں کہ کہ عام طور پر انہیں تھیٹر دیکھنے سے کوئی نیا تجربہ نہیں ہوتا ہے۔

جو لوگ تھیٹر کا رخ فلموں کے لیے کرتے ہیں وہ گھروں میں بھی ایسی ہی فلمیں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے فلمی تھیٹر کھولنے کا خوف یا جھجھک کیوں ہے؟ اس حوالے سے یہ سوال بھی اہم ہے کہ تھیٹروں کے لیے رکاوٹیں اور قواعد کیا ہیں اور کیا موجودہ خوف اور جھجک اسی طرح باقی رہے گا یا ختم ہو سکے گا۔

پوری دنیا میں فلموں کو ناظرین کی عمروں کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ اس طرح کی پابندیاں حکام کو یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ کن فلموں کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور کن فلموں کو کنٹرول نہیں کر سکتے ہیں۔

عوام کے حوالے سے فلم کے کسی منظر کو نامناسب خیال کرتے ہوئے حکام ایسے مناظر کو عام طور پر کاٹ دیتے ہیں۔ فلموں کا نظام الاوقات اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ نمازوں کے اوقات بھی متاثر نہیں ہوتے ہیں۔

اسی طرح جو مخلوط نشست گاہوں کو پسند نہیں کرتے ان کے خیالات کا بھی احترام کیا جاتا ہے۔ لیکن معاملہ مملکت سعودیہ میں انٹرنیٹ اور نجی چینلز کے مقبول ہونے کے باوجود ابھی تک متنازعہ ہونا ہے۔

اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس موضوع پر بحث بے مقصد ہے کیونکہ حکام کو فلمی مواد کو چیک کرنے کا پورا اختیار حاصل ہے۔

سعودی فلم میلے کے منتظم اور فلم ڈائریکٹر ممدوح سلیم کا کہنا ہے کہ ملک میں فلموں اور تھیٹر کی نگرانی کرنے والی کوئی باڈی موجود نہیں تھی اس وجہ سے چھتیس سال پہلے ہمارا معاشرہ دو حصوں میں بٹا ہوئا تھا۔ لیکن اب سیٹلائٹ چینلز کی وجہ سے چیزیں بہت تبدیل ہو گئی ہیں۔

آج لوگ مفت اور ادائیگی کے ساتھ فلمیں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ سینکڑوں شینلز میں سے جس کا چاہیں انتخاب کر سکتے ہیں۔ ممدوح سلیم کا مزید کہنا تھا چالیس سال پہلے ہمارے معاشرے کے پاس ایک ہی چوائس تھی اور وہ سرکاری ٹی وی تھا، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے، اب ہمارا معاشرہ تنگ نظر نہیں ، نئی نسل تو بالکل تبدیل ہے۔

کامیاب تجربات


ممدوح سلیم نے کہا '' ہمیں خلیج میں اپنے بھائیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جہاں فلمی تھیٹرز موجود ہیں۔ ہم اپنی مملکت میں فلموں کی نگرانی کے لیے قواعد بنا سکتے ہیں۔ '' انہوں نے کہا انہیں یقین ہے کہ فلمیں معیشت اور مقامی فلمی صنعت پر مثبت اثرات مرتب کریں گی ، نئے روزگار فراہم ہوں گے۔ جیسا کہ امریکا میں سینیما کی معاشی اہمیت مسلمہ ہے۔
معاشرہ تیار ہے۔

فلم پروڈیوسر صابری بجسائر کا اس بارے میں کہنا ہے سعودیہ کا تقریباً ہر گھرانہ سیٹلائٹ ٹی وی تک رسائی رکھتا ہے۔ اس لیے انہیں یقین ہے کہ جو لوگ آج تھیٹر کی مخالفت کرتے ہیں وہ بھی بالآخر مان جائیں گے، کیونکہ تھیٹر پر پابندی کے حق میں کوئی معقول دلیل نہیں ہے۔

نئی نسل کا تحفظ۔

فیشن ڈیزائنر یحیی البشری اج اقوام کا اندازہ ان کی فلموں اور فنون سے ہوتا ہے۔ بہت سارے سعودی نوجوان بے مقصد گلیوں میں پھرتے ہیں کہ ان کے پاس وقت گذاری کے لیے تھیٹر جیسی جگہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا اپنے بچپن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ جدہ میں تھیٹر دیکھنے جاتے تھے۔ وہاں مخلوط نشستیں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ میں نے کسی کو فلموں کے خلاف کوئی شکایت نہ ہوتی تھی۔ لوگ فلمیں پسند کرتے تھے اور تھیٹر کی حمایت کرتے تھے۔