.

فرانس میں دہشت گردی کے خلاف عالمی ملین مارچ

سیکیورٹی کے لیے اہم عمارتوں کی چھتوں پر ماہر نشانچی تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں گذشتہ ہفتے ایک متنازعہ جریدے کے دفتر میں فائرنگ اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کے خلاف آج بروز اتوار پیرس میں عالمی ملین مارچ کا اعلان کیا گیا ہے جس میں دنیا بھر سے اہم سیاسی اور سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔ دوسری جانب حکومت نے مظاہرین کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کرنے کے لیے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پیرس میں دہشت گردی کے خلاف منعقد ہونے والی ایک احتجاجی ریلی میں اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بھی شرکت کریں گے۔ توقع ہے کہ آج کے روز پیرس اور مختلف شہروں میں بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر دہشت گردی کی مذمت میں احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔

فرانسیسی وزیر داخلہ برنار کازنوف نے ہفتے کی شام ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے مکانوں کی چھتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوج اور اسپییل فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد کو بھی الرٹ کیا گیا۔ پیرس میں احتجاجی مظاہروں کی سیکیورٹی کے لیے کم سے کم 5500 اضافی فوجی اور پولیس کی نفری طلب کی گئی ہے۔ پیرس میں نکالی جانے والی مرکزی ریلی کی حفاظت کے لیے دارالحکومت کے اردگرد کے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے تاکہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہ آئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ ہفتے پیرس میں ایک متنازہ جریدے’’چارلی ہیبڈو‘‘ کے دفتر میں ہونے والی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ڈیڑھ درجن افراد کی ہلاکت کے بعد فرانس میں اب بھی خوف وہراس کی فضا اور دہشت گردوں کے کی دھمکیوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ تاہم اس کے باوجود آج ایک ملین افراد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جلوس نکالیں گے۔

دہشت گردی کے واقعے میں سترہ فرانسیسیوں سمیت بیس افراد مارے گئے تھے، جن میں تین حملہ آور بھی شامل ہیں۔ حملہ آوروں کی حیات بُو مدین نامی خاتون ساتھی مفرور ہے جس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے پیرس میں سیکیورٹی کے لیے 500 اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گیے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ حساس مقامات پر دہشت گردی کے حملوں کے پیش نظر آئندہ کئی ہفتوں تک سیکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار رہیں گے۔

مظاہرے میں عالمی سیاسی رہ نمائوں کی شرکت

العربیہ ڈات نیٹ کے مطابق پیرس میں آج دہشت گردی کی مذمت کےحوالے سے ہونے والے ملین مارچ میں مسلمان ممالک سمیت یورپ اور دنیا بھر کے اہم سیاسی رہ نما بھی خصوصی طور پر شرکت کریں گے۔ فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کی جانب سے یورپی ممالک کی قیادت اور اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی سطح کے اس ملین مارچ میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، ان کے اطالوی ہم منصب ماتیو رینزی، اسپین کے ماریونو راکھوی، ڈنمارک کے ھیلی تھورینگ شمیٹ، بیلجیئم کے چارل میچل، ہالینڈ کے مارک روٹ، یونان کے انطیونس سامارس، پرتگال کے بیڈرو باسوس کویلو، بلغاریہ کے بویکو بوریسوف،میگری کے ویکٹور اوربان،جورجیا کے ایراکلی گاربیا چفلی، رومانیہ کے صدر کلائوس یوھانیس، یورپی یونین کے صدر جان کلوڈ یونکر، یورپی پارلیمنٹ کے اسپیکر مارٹن چولز اور یورپی کونسل کے چیئرمین ڈونلڈ ٹاسک کے علاوہ اردن کے شاہ عبداللہ دم،ان کی اہلیہ، فلسطینی صدر محمود عباس، تیونسی وزیر اعظم مہدی جمعہ،روسی وزیر خارجہ سرگی لافروف، کوسووو کی صدر عاطفہ یحاگا اور ترکی کے وزیر اعظم احمد داوئود اوگلو، یوکرائنی صدر پیٹرو یوروشنکو، افریقی ملک مالی کے صدر ابراہیم بو بکر کیتا، گابون کے علی بونگو، نیجر کے محمدو عیسوفو اور شمالی امریکا سے وزیر انصاف اریک ہولڈر سمیت سیکڑوں عالمی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔