پیرس:عالمی رہ نماؤں کا دہشت گردی مخالف مارچ

متعدد صدور اور وزرائے اعظم سمیت ہزاروں افراد کی ریلی میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سخت سکیورٹی میں بیسیوں عالمی رہ نماؤں اور مدبرین سمیت ہزاروں افراد دہشت گردی مخالف ریلی میں شرکت کررہے ہیں۔

پیرس میں اس ریلی کا اہتمام گذشتہ بدھ کو تین اسلامی جنگجوؤں کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر اور یہود کے ملکیتی اسٹور پر حملے میں مارے گئے سترہ افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند جرمنی ،اٹلی ،اسرائیل ،ترکی ،برطانیہ اور فلسطینی علاقوں کے لیڈروں کے ساتھ سے اس ریلی کی قیادت کررہے ہیں۔چارلی ہیبڈو کے دفتر پر مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے مارے گئے بارہ افراد کے لواحقین بھی مارچ کی قیادت کرنے والے عالمی رہ نماؤں کے ساتھ ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف اس بے مثال مارچ کے شرکاء کے تحفظ کے لیے قریباً بائیس سو پولیس اہلکار اور فوجی فرانسیسی دارالحکومت میں گشت پر مامور ہیں اور چھتوں پر پولیس کے ماہر نشانچی تعینات کیے گئے ہیں،اس کے علاوہ سادہ کپڑوں میں خفیہ اہلکار ریلی کے شرکاء کے درمیان شامل ہیں۔اس کے روٹ میں آنے والے تمام زیر زمین ٹرین کے اسٹیشنز بند کردیے گئے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے قبل ازیں ایک بیان میں کہا کہ ''پیرس آج دنیا کا دارالحکومت ہے اور ہمارا پورا ملک آج اپنی بہترین شناخت دکھائے گا''۔ اس مارچ میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ،فلسطینی صدر محمود عباس ،اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور ان کی اہلیہ ملکہ رانیا ،ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو ،روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر سمیت متعدد مسلم ،عرب اور مغربی ممالک کے سربراہان حکومت و ریاست شریک ہیں۔

اس ریلی میں جن دوسرے عالمی رہ نماؤں کی شرکت کی تصدیق کی گئی تھی ،ان میں البانیا کے وزیراعظم عیدی راما،الجزائری وزیرخارجہ رمضان لعمامرہ، آسٹریا کے وزیرخارجہ سیبسٹیئن کرز ،بیلجئیم کے وزیر اعظم چارلس مائیکل ،بینن کے صدر تھامس بونی یایی ،برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ،بلغاریہ کے وزیراعظم بوئکو بورسوف، کینیڈا کے پبلک سیفٹی کے وزیر اسٹیون بلینے، جمہوریہ کروشیا کے وزیراعظم زوران میلانو وچ، جمہوریہ چیک کے وزیراعظم بوہوسلاو سبوتکا، ڈینش وزیراعظم ہیلی تھارننگ شمدت، گیبون کے صدر علی بونگو عون دیمبا، جارجیا کے وزیراعظم ایراکلی گیری باشویلی، جرمن چانسلر اینجیلا مرکل، یونانی وزیراعظم انتونیس سامراس، ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن،لٹویا کے وزیراعظم لائمڈوٹا اسٹراجما ،مالی کے صدر ابراہیم بوبکر قیتا، نیجر کے صدر محمدو عیسوفو، تیونسی وزیراعظم مہدی جمعہ ،اطالوی وزیراعظم ماٹیو رینزی ،متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید الناہیان ، یوکرینی صدر پیٹرو پوروشنکو ،یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ ژنکر، یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز ،یورپی یونین کے صدر ڈونالڈ ٹسک اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹنبرگ شامل ہیں۔

فرانس میں ہفتے کے روز بھی جنوبی شہر طولوس سے مغربی شہر رینس تک بدھ سے جمعہ تک تین روز میں مارے گئے سترہ افراد کی یاد میں ریلیاں نکالی گئی تھیں اور ان میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

طنزیہ اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے کی کسی جنگجو گروپ نے ذمے داری تو قبول نہیں کی ہے لیکن یمن میں القاعدہ کی شاخ نے کہا ہے کہ اس نے پیرس میں اخبار پر حملے کی ہدایت کاری کی تھی۔ ایک حملہ آور نے حملے کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔اس حملہ آور نے یمن میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ اس فرانسیسی ہفت روزہ اخبار نے 2006ء ،2011ء اور 2013ء میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی خاکے اور کارٹون شائع کیے تھے جس پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔یہ طنزیہ اخبار ماضی میں متعدد مواقع پر آزادی اظہار کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا مرتکب ہوچکا ہے۔اس کے دفاتر پر سنہ 2011ء میں ایسی ہی ناپاک جسارت کے بعد فائربم حملہ کیا گیا تھا۔اخبار کی اشاعتوں میں اکثر مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑایا جاتارہا ہے لیکن مغربی لیڈر پریس کی آزادی کے نام پر اس کا دفاع کرتے رہے ہیں۔

اردن کی ملکہ رانیا ریلی میں شرکت کے موقع پر فرانسیسی صدر فرانسواولاند سے مصافحہ کررہی ہیں۔ان کے ساتھ ان کے خاوند شاہ عبداللہ دوم ہیں۔
اردن کی ملکہ رانیا ریلی میں شرکت کے موقع پر فرانسیسی صدر فرانسواولاند سے مصافحہ کررہی ہیں۔ان کے ساتھ ان کے خاوند شاہ عبداللہ دوم ہیں۔
پیرس میں دہشت گردی مخالف ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔
پیرس میں دہشت گردی مخالف ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں