''پیرس حملے میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ملا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا ہے کہ امریکا کو ابھی تک پیرس حملے میں القاعدہ سمیت کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ٹھوس انٹیلی جنس معلومات نہیں ملی ہیں۔

ایرک ہولڈر نے پیرس میں اے بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''اس مرحلے پر ہمارے پاس ایسی کوئی قابل اعتبار معلومات نہیں ہیں جس سے یہ پتا چل سکے کہ پیرس حملے میں کس تنظیم کا ہاتھ کارفرما ہے''۔
جب ان سے دہشت گردوں کے سلیپر سیلوں کے فعال ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ''میرے خیال میں ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ امریکی سرزمین پر کوئی خطرہ موجود ہے یا فرانس کی طرح کا کوئی خطرہ فعال ہوچکا ہے''۔انھوں نے کہا کہ جہاں تک فرانس میں سلیپرسیلوں کا تعلق ہے تو اس کی یہاں ہمارے فرانسیسی شراکت دار تحقیقات کررہے ہیں۔

طنزیہ اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے کی اب تک کسی جنگجو گروپ نے ذمے داری تو قبول نہیں کی ہے لیکن یمن میں القاعدہ کی شاخ نے کہا ہے کہ اس نے پیرس میں اخبار پر حملے کی ہدایت کاری کی تھی۔ ایک حملہ آور نے حملے کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔اس حملہ آور نے یمن میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ایک رکن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کوجاری کردہ ایک انگریزی بیان میں کہا ہے کہ ''ان کی تنظیم کی قیادت نے کارروائیوں کی ہدایت کی تھی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا انتقام لینے کے لیے بڑی احتیاط سے ان کے ہدف کا انتخاب کیا گیا تھا''۔

امریکا نے گذشتہ جمعہ کو فرانس ،آسٹریلیا اور کینیڈا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد عالمی سفری انتباہ جاری کیا تھا۔پیرس میں بدھ کو اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر دو بھائیوں سعید کواشی اور شریف کواشی کی فائرنگ سے آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یہ دونوں بھائی جمعہ کو پولیس کی ایک کارروائی میں مارے گئے تھے اور پولیس نے ان کے ایک مبینہ ساتھی کو بھی اسی روز یہود کے ملکیتی گراسری اسٹور میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔اس کارروائی میں چار یرغمالی بھی مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں