.

ترکی میں مقیم 15 لاکھ شامیوں کو شناختی کارڈز کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے پناہ گزین کیمپوں اور شہروں میں مقیم قریباً پندرہ لاکھ شامی مہاجرین کو بائیو میٹرک شناختی کارڈز جاری کردیے ہیں۔ترک وزارت داخلہ کے مطابق قریباً تین ہزار شامی مہاجرین کو ایک سرمائی کیمپ میں منتقل کردیا گیا ہے۔

ترک کے محکمہ ڈیزاسٹر اور ایمرجنسی (اے ایف اے ڈی) کی جانب سے جاری کردہ شامی مہاجرین کے ان تازہ اعداوشمار سے قبل نائب وزیراعظم نعمان قرطولمس نے بتایا تھا کہ قریباً بارہ لاکھ شامی مہاجرین کو رجسٹر کیا گیا ہے۔

نئے شناختی کارڈز میں شامی مہاجرین کی انگلیوں کے نشان اور ذاتی تفصیل ہے اور ان کو امداد ،تعلیم ،ملازمت اور سماجی خدمات کے حصول میں استعمال کیا جاسکے گا۔اس ڈیٹا بیس کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کی نشان دہی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

اے ایف اے ڈی کے مطابق ترکی میں اس وقت سترہ لاکھ شامی مہاجرین مقیم ہیں۔ان میں سے دو لاکھ تیس ہزار کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔انھیں اسکول ،سپر مارکیٹس اور سینماؤں تک جانے کی سہولت حاصل ہے۔

ترکی کا یہ محکمہ اس وقت جنوب مشرقی صوبے سانلی عرفہ کے علاقے سوروچ میں مہاجرین کے لیے ساڑھے پینتیس ہزار افراد کی گنجائش والا ایک بڑا کیمپ تعمیر کررہا ہے۔اسی صوبے کے ضلع مردین دیرک میں پندرہ ہزار شامی مہاجرین کو ٹھہرانے کے لیے ایک اور کیمپ کی تعمیر جاری ہے۔

ترک روزنامے حریت کی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں کیمپ رواں ماہ کے آخر تک تیار ہوجائیں گے اور وہاں مہاجرین کو منتقل کیا جاسکے گا۔ترکی ''اکٹھے رہیں''کے نام سے ایک سماجی پروگرام شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔یہ پروگرام اس مفروضے پر مبنی ہے کہ شامی مہاجرین کی اکثریت واپس نہ جائے اور ترکی ہی میں مقیم رہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ شام میں جنگ سے متاثرہ قریباً ایک کروڑ اسی لاکھ افراد کی امداد کے لیے آٹھ ارب چالیس کروڑ ڈالرز سے زیادہ رقم کی مانگ کی تھی۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گٹرس کا کہنا ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے نتیجے میں اندرون ملک دربدر ہونے والے افراد اپنی تمام جمع پونجی اور وسائل خرچ کر چکے ہیں اور ان کے پاس کچھ نہیں بچا ہے جبکہ پڑوسی ممالک لاکھوں کی تعداد میں شامی مہاجرین کی میزبانی کررہے ہیں اور ان کے ہاں اب مزید بوجھ سہارنے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔

شام میں مارچ 2011ء سے جاری حکومت مخالف مسلح بغاوت اور خانہ جنگی کے دوران دو لاکھ سے زیادہ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور ملک کی نصف سے زیادہ آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ان میں سے لاکھوں پڑوسی ممالک ترکی، لبنان، اردن اور عراق میں مقیم ہیں۔اقوام متحدہ نے شام سے باہر پڑوسی ممالک میں مقیم مہاجرین کی امداد کے لیے ساڑھے پانچ ارب ڈالرز کی مانگ کی تھی۔اس میں سے میزبان ممالک کوقریباً ساٹھ لاکھ شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے رقوم مہیا کی جائیں گی۔