.

فرانس:10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان

دہشت گردی اور ریڈیکل اسلام سے حالتِ جنگ میں ہیں:وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیرداخلہ برنارڈ کازینوف نے ملک بھر میں حساس مقامات پر دس ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ یہود کے اسکولوں کے تحفظ کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

کازینوف نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل منگل سے آغاز کیا جائے گا اور اس ضمن میں حساس مقامات پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔

درایں اثناء فرانسیسی وزیراعظم مینول والز نے کہا ہے کہ پیرس میں تین مختلف مقامات پر حملے کرنے والے تین مسلح افراد کا کوئی اور ساتھی بھی تھا۔انھوں نے کہا کہ پیرس میں کوشر اسٹور پر حملہ کرنے والے آمدی کولیبالی کو یقیناً کسی اور شخص کی مدد بھی حاصل تھی۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس ساتھی کی گرفتاری تک تلاش جاری رہے گی اور اس کی تلاش ضروری ہے کیونکہ ابھی خطرہ موجود ہے''۔ مسٹر والز نے بی ایف ایم ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس دہشت گردی ،جہادازم اور ریڈیکل اسلام کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔

کولیبالی کی بیوہ کی شناخت حیات بومدین کے نام سے کی گئی ہے اور وہ ترکی کے راستے جمعرات کو شام میں داخل ہوئی تھی۔عین اسی روز اس کے خاوند نے پیرس میں ایک خاتون پولیس افسر کو ہلاک کردیا تھا۔اس سے ایک روز پہلے بدھ کو دو بھائیوں شریف کواشی اور سعید کواشی نے پیرس میں طنزیہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرکے آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد کو قتل کردیا تھا۔

یہ دونوں بھائی جمعہ کو پیرس میں پولیس کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔اسی روز کولیبالی نے یہود کے ملکیتی اسٹور میں چار افراد کو ہلاک کردیا تھا اور پھر خود بھی پولیس کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیات بوم الدین میڈرڈ سے پرواز کے ذریعے 2 جنوری کو ترکی میں آئی تھی۔وہ استنبول میں ایک ہوٹل میں ٹھہری تھی اور پھر شام کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔

حیات بومدین کے خاوند آمدی کولیبالی کی اتوار کو ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی۔اس میں اس نے داعش کے خلیفہ ابو بکر بغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور حملوں کے بارے میں بتایا تھا۔اب فرانسیسی پولیس اس ویڈیو کو فلمانے والے شخص کی تلاش میں ہے۔اسی شخص نے یہ ویڈیو پیرس میں حملوں کے بعد ایڈیٹ کی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کی تھی۔

چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والے دونوں بھائیوں کا تعلق پیرس سے تھا اور ان میں سے ایک نے یمن میں القاعدہ کی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔ان کے اور کولیبالی کے درمیان سنہ 2005ء سے تعلقات استوار تھے۔