.

"اسرائیلی وزیر اعظم پیرس تشریف نہ لائیں"

ریلی میں یاہو کی شرکت سے یہود مسلم تنازع نمایاں ہونے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

''آپ کا پیرس ریلی میں تشریف نہ لانا ہمارے لیے بہتر ہو گا۔ '' یہ اس پیغام کا مفہوم ہے جو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو فرانس کے صدر فرانسو اولاند کی طرف سے اتوار کی غیر معمولی ریلی سے دور رکھنے کے لیے باضابطہ طور پر پہنچایا گیا تھا۔

اسرائیل اور فرانس دونوں ملکوں کے اعلی ذرائع نے اس معاملے کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کو پیرس آنے سے روکا گیا کہ فرانس یہودی مسلم تنازع کو اس موقع پر بڑھانے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا۔

فرانس میں یہ رائے بھی موجود تھی کہ اسرائیل اس ریلی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔

واضح رہے فرانس کی رائے عامہ کی اکثریت اسرائیل کے ساتھ نہیں ہے اور اسرائیل کو فلسطینی تنازع میں جارح سمجھتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حق میں پیش کی گئی حالیہ قرارداد کی فرانس نے حمایت کی تھی۔ تاہم یہ قرارداد ایک ووٹ سے مسترد ہو گئی تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو عالمی رہنما نیلسن منڈیلا کی آخری رسوم میں بھی اسی طرح کی وجوہ سے نہ شرکت نہ کر سکے کہ تھے کہ جنوبی افریقا فلسطین کاز کی حمایت کرتا ہے تاہم اسرائیلی وزیر اعظم کے سفری اخراجات کو بہانہ بنا کر جنوبی افریقا نہیں گئے تھے۔

اب گذشتہ اتوار کے روز پیرس میں ہونے والی تاریخی ریلی میں متعدد ممالک کے رہنماوں نے شرکت کی۔ ان میں عرب رہنماوں کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ترک وزیر اعظم احمد داود اوغلو بھی موجود تھے۔

فرانس کے صدر کے سلامتی سے متعلق مشیر نے بنجمن نیتن یاہو کو پیرس آنے س روکنے کے لیے لکھا ''ہمیں امید ہے کہ یاہو ہماری مشکلات کو سمجھیں گے جو ان کے یہاں آنے کی صورت میں ہو سکتی ہیں۔ اس کے بعد نیتن یاہو نے کہا وہ پیرس نہیں جائیں گے۔

درایں اثناء نیتن یاہو نے جب وزیر خارجہ لائبرمین اور وزیر برائے اقتصادی امور کی ریلی میں شرکت کے ارادے سے آگاہی حاصل کی تو یاہو نے اپنا ارادہ بدل کر عندیہ دیا کہ وہ بھی پیرس جائیں گے۔

اسرائیلی لیڈر کی اس خواہش سے فرانس کے سلامتی کے مشیر کو آگاہ کیا کیا گیا تو مشیر نے غصے کا اظہار کیا اور کہا اس سے دو طرفہ معاہدات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔