.

حیات بومدین کی ترکی آمد کی فوٹیج سامنے آگئی

پیرس اسٹور پر حملہ کرنے والے کولیبالی کی بیوہ شام چلی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے سسٹر چینل الحدث کو گذشتہ ہفتے پیرس میں مہلک حملوں کے الزام میں فرانسیسی حکام کو انتہائی مطلوب الجزائری نژاد فرانسیسی خاتون حیات بوم الدین کی ترکی میں آمد کی ویڈیو مل گئی ہے۔

اس ویڈیو میں وہ ترکی کے ایک امیگریشن افسر کو اپنا پاسپورٹ پیش کررہی ہے اور وہ افسر اس کو دیکھنے کے بعد اس پر مہر لگا رہا ہے۔اس عمل کے دوران بومدین کے ساتھ ایک نامعلوم نوجوان بھی نظر آرہا ہے جو اس کے ساتھ ہی کاؤنٹر سے روانہ ہورہا ہے۔

قبل ازیں ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے سرکاری خبررساں ایجنسی اناطولو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حیات بوم الدین سپین کے دارالحکومت میڈرڈ سے پرواز کے ذریعے 2 جنوری کو ترکی میں آئی تھی۔اس نے استنبول میں ایک ہوٹل میں قیام کیا تھا اور پھر شام کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔اس وقت وہ شام ہی میں کہیں موجود ہے۔

وہ ترکی کے راستے جمعرات کو شام میں داخل ہوئی تھی۔عین اسی روز اس کے خاوند سیاہ فام آمدی کولیبالی نے پیرس میں ایک خاتون پولیس افسر کو ہلاک کردیا تھا۔اس سے ایک روز پہلے بدھ کو دو بھائیوں شریف کواشی اور سعید کواشی نے پیرس میں طنزیہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرکے آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

ترک حکام کو پیش کی گئی سفری دستاویز کے مطابق حیات بوم الدین کے پاس واپسی کا بھی ٹکٹ تھا لیکن وہ اپنی پرواز پر ترکی سے واپس نہیں گئی تھی۔فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ حیات بوم الدین اور شریف کواشی کی اہلیہ عزانہ حمید کے درمیان سیکڑوں فون کالز کا ریکارڈ ملا ہے۔عزانہ حمید اس وقت فرانسیسی حکام کی حراست میں ہے۔

حیات بومدین کے خاوند آمدی کولیبالی کی اتوار کو ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی۔اس میں اس نے داعش کے خلیفہ ابو بکر بغدادی کی بیعت کا اعلان کیا تھا اور حملوں کے بارے میں بتایا تھا۔اب فرانسیسی پولیس اس ویڈیو کو فلمانے والے شخص کی تلاش میں ہے۔اسی شخص نے یہ ویڈیو پیرس میں حملوں کے بعد ایڈیٹ کی اور انٹرنیٹ پر پوسٹ کی تھی۔

چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والے دونوں بھائیوں کا تعلق پیرس سے تھا اور ان میں سے ایک بھائی نے یمن میں القاعدہ کی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔ان کے اور کولیبالی کے درمیان سنہ 2005ء سے تعلقات استوار تھے اور وہ جمعہ کو فرانسیسی پولیس کی دو مختلف کارروائیوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔