ائیرایشیا کے تباہ شدہ جیٹ کا کاک پٹ ریکارڈر مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انڈونیشیا کی بحریہ کے غوطہ خوروں نے بحیرہ جاوا سے ائیرایشیا کے تباہ شدہ جیٹ طیارے کے کاک پٹ کا وائس ریکارڈر نکال لیا ہے۔

ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈر بھی بحیرہ جاوا کی اسی جگہ سے ملا ہے جہاں سے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ملا تھا۔کاک پٹ وائس ریکارڈر میں پائیلٹوں اور ائیر ٹریفک کنٹرولروں کے درمیان ہونے والی گفتگو ریکارڈ ہوتی ہے۔اس سے گذشتہ ماہ ائیر ایشیا کے مسافر طیارے کو پیش آئے حادثے کی وجوہ کے تعیّن مدد مل سکے گی۔

انڈونیشیا کے میٹرو ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈر کو انڈونیشی بحریہ کے ایک جہاز کے ذریعے دارالحکومت جکارتہ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے اور وہیں اس کا تجزیہ کیا جائے گا۔تحقیقات کاروں کو اس کے ڈیٹا کے مکمل مطالعے اور جائزے کے لیے کم سے کم ایک ماہ کا وقت درکار ہوگا۔

انڈونیشا کے دو سرکاری عہدے داروں نے کہا ہے کہ غوطہ خوروں نے ایک شے کو سمندر کی تہ سے نکالا ہے لیکن انھوں نے اس کے سیریل نمبر کا پتا چلنے تک اس کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

ائیرایشیا ،انڈونیشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کا 28 دسمبر کو خراب موسم کی وجہ سے ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔یہ طیارہ انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جارہا تھا اور اس نے دو گھنٹے کی مسافت میں سے ابھی آدھے سے بھی کم فاصلہ طے کیا تھا۔

اس کے بلیک باکسز میں موجود ڈیٹا کے تجزیے سے یہ پتا چل سکے گا کہ ائیر بس اے 320-200 کو کیونکر حادثہ پیش آیا تھا اور یہ مسافر طیارہ سمندر میں کیسے گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں اس میں سوار عملے کے ارکان سمیت ایک سو باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

انڈونیشی بحریہ کے خوطہ خوروں نے اس ہفتے کے دوران موسم کی بہتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیرہ جاوا سے طیارے کے بلیک باکسز اور دوسرے حصوں کو نکال لیا تھا اور اب توقع ہے کہ وہ اس کے باقی ماندہ ملبے کو بھی نکال لیں گے۔سمندر سے اڑتالیس لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور انھیں شناخت کے لیے سورابایا منتقل کیا گیا ہے۔تلاش کاروں کو یقین ہے کہ طیارے کے اندرونی حصے سے مزید لاشیں مل جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں