شام اور عراق میں فوج داخل کی جائے: کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینٹر جون مکین نے صدر براک اوباما سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے خلاف کارروائی کے لیے فوج کو شام اور عراق میں زمینی آپریشن کی بھی اجازت دیں۔ انہوں نے شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم اپوزیشن کی فوج جیش الحر کو اسلحہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک’سی این این‘ سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹر مکین کا کہناتھا کہ صدر براک اوباما نے عراق میں اپنی فوجیں موجود رکھنے کے مشورے پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی شام میں جیش الحر کو مسلح کرنے میں مدد کی گئی۔ اس کے نتیجے میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم وجود میں آئی۔ یہ تنظیم القاعدہ سے بھی زیادہ شدت پسند اور نہایت خطرناک ہے۔ داعش کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکا، عراق میں اپنی فوج داخل کرنے کے ساتھ شام میں بھی براہ راست زمینی کارروائی کرے اور ساتھ ساتھ شامی اپوزیشن کی نمائندہ فوج کو اسلحہ مہیا کیا جائے۔

درایں اثناء امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی کا کہنا تھا کہ اگر امریکی انتظامیہ اور صدر اوباما اجازت دیں تو فوج شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف زمینی حملے کے لیے تیار ہے۔

جنرل ڈمپسی کا کہنا تھا کہ داعش کا خاتمہ زمینی کارروائی سے ممکن ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عراق اور شام کے عوام کو بھی اس گروپ کے خلاف کھڑا کرنا ہو گا تاکہ اندورن ملک سے دہشت گردوں کو کہیں پناہ نہ مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں