پیرس ملین مارچ میں عدم شرکت، امریکی قیادت کٹہرے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے صدر مقام پیرس میں دہشت گردی کے خلاف ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ملین مارچ میں امریکی انتظامیہ کی عدم شرکت پر امریکا کے ابلاغی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث جاری ہے جس میں صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی میڈیا میں جاری تبصروں، تجزیوں اور ٹاک شوز میں پیرس ملین مارچ میں عدم شرکت پر اوباما انتظامیہ کو 'سخت سست' کہا جا رہا ہے اور اسے 'حکومت کی غلطی' سے تعبیر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اتوار کو پیرس میں منعقدہ ملین مارچ میں جرمنی، اٹلی۔ ترکی، برطانیہ، اسرائی اور فلسطین سمیت 44 ممالک کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کی۔ فرانسیسی میڈیا اور حکومتی دعوئوں کے مطابق پیرس ملین مارچ سنہ 1944ء میں فرانس کی جرمن نازیوں سے آزادی کے بعد سب سے بڑا مارچ تھا جس میں ایک ملین کے قریب افراد نے شرکت کی۔

یہ ملین مارچ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کے دفتر پر گذشتہ ہفتے مسلح افراد کے حملے میں سترہ افراد کی ہلاکت اور ایک سپر اسٹور میں حملے کے خلاف بہ طور احتجاج منعقد کیا گیا تھا۔

دہشت گردی کے معاملے میں پیش پیش امریکا، فرانس جیسے اتحادی کے ہاں منعقدہ عالمی ملین مارچ میں غائب رہا۔ امریکا کی جانب سے ملین مارچ میں نمائندگی فرانس میں متعین امریکی سفیر جین ہارٹلی نے کی۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فرانس میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے جلد پیرس کا دورہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ فرانس کے بجائے بھارت اور پاکستان کے دورے پر روانہ ہو گئے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ فرانس میں دہشت گردی کا واقعہ چاہے کسی کی انفرادی کوشش کی تھی یا یہ کسی تنظیم کا منظم حملہ تھا تاہم وہ اس کی مذمت کرتے ہیں اور آئندہ جمعرات کو فرانس سے اظہار ہمدردی کے لیے پیرس پہنچیں گے۔

امریکا کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا میں بھی براک اوباما کی انتظامیہ کو فرانس میں ملین مارچ میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر صدر اوباما خود نہیں جا سکتے تھے تو ان کے نائب جوزف بائیڈن یا وزیر خارجہ جان کیری میں سے کسی کو ضرور ملین مارچ میں شرکت کرنا چاہیے تھی۔

امریکی ٹی وی ’سی این این‘ کے ایک پروگرام کے میزبان اور تجزیہ نگار ڈاکٹر فرید زکریا نے امریکی انتظامیہ کی فرانس میں منعقدہ ملین مارچ میں شرکت نہ کرنے کو ’غلطی‘ قرار دیا۔

فوکس نیوز کی نیوز کاستر گریٹا فان سوسٹرن نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر سوال چھوڑا ہے "کیا فرانس میں دہشت گردی مخالفت ملین مارچ میں امریکی انتظامیہ کی عدم شرکت شرمناک بات ہے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ اس نازک موقع پر صدر اوباما کہاں ہیں اور وہ پیرس کیوں نہیں گئے ہیں۔"

امریکی کانگریس کے سابق چیئرمین اور ری پبلیکن کے سابق صدارتی امیدوار نوٹ گینگریچ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر سے 50 ممالک کے سربراہان دہشت گردی کی مذمت میں فرانس میں منعقدہ ملین مارچ میں شرکت کر کے پیرس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا لیکن صدر اوباما نے شرکت نہ کرکے اپنی بزدلی کا ثبوت دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں