امریکی اتحادیوں کے داعش پر 27 فضائی حملے

عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیاروں نے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے زیر قبضہ علاقوں پر ستائیس فضائی حملے کیے ہیں۔

امریکا کی کمان میں اتحادی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتحادی فورسز کے لڑاکا طیاروں نے شام میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران گیارہ حملے کیے ہیں اور دیر الزور اور کوبانی میں داعش کے ٹھکانوں اور اہداف پر بمباری کی ہے۔

ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع کرد اکثریتی شہر کوبانی میں اتحادی طیاروں نے داعش کے دو یونٹوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے دس ٹھکانوں کو تباہ کردیا ہے۔ان کے علاوہ لڑاکا طیاروں نے داعش کے زیر استعمال پانچ عمارتوں اور دو مورچوں پر بمباری کی ہے۔دیرالزور میں اتحادی طیاروں نے داعش کے زیر قبضہ تیل صاف کرنے کے ایک کارخانے پر بمباری کی ہے۔

امریکی اتحادیوں نے عراق کے شہروں بیجی ،الرمادی ،تل عفر اور سنجار کے پہاڑی علاقے میں لڑاکا ،بمبار اور بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے ذریعے سولہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان حملوں میں بیجی کے نزدیک داعش کے چار ٹیکٹیکل یونٹوں اور دو مورچوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔

مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی میں اتحادی طیاروں نے داعش کے ایک ٹیکٹیکل یونٹ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا ہے۔تل عفر میں ایک حملے میں داعش کے توپ خانے کے ایک نظام اور ایک چیک پوائنٹ کو تباہ کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں امریکا ،آسٹریلیا ،بیلجیئم ،کینیڈا ،ڈنمارک ،فرانس ،نیدر لینڈز اور برطانیہ کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں اور ان کی تنصیبات پر اگست سے حملے کررہے ہیں جبکہ شام میں امریکا کے علاوہ بحرین ،اردن ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے داعش کے خلاف ستمبر سے فضائی مہم میں شریک ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی اور عرب ممالک کی اس جنگی مہم کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کا خاتمہ کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے تاکہ عراق اور شام کے علاوہ مغربی دنیا کو داعش کے خطرے سے محفوظ بنایا جاسکے۔داعش نے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر گذشتہ سال جون میں قبضے کے بعد سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔

گذشتہ پانچ ماہ سے جاری اس فضائی مہم سے امریکی اتحادیوں کو صرف یہ کامیابی ملی ہے کہ انھوں نے داعش کی پیش قدمی روک دی ہے اور ان کی آزادانہ نقل وحرکت کو محدود کردیا ہے لیکن عراق میں برسرزمین سرکاری سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشائیں ابھی تک داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس نہیں لے سکی ہیں جبکہ شام میں لڑائی کی صورت حال اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے۔شام میں داعش کی بیک وقت مقامی باغی جنگجو گروپوں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج سے الگ الگ لڑائی جاری ہے اور وہ مختلف محاذوں پر ایک دوسرے کے زیر قبضہ علاقوں کو چھیننے کے لیے محاذآراء ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں