اسرائیل کے لیے جاسوسی، یمن میں ایرانی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے حکام نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے اور ملک میں بہائی نظریات کی تبلیغ کے الزام میں ایک ایرانی شہری کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

یمنی خبر رساں ایجنسی’’سبا‘‘ کے مطابق حال ہی میں سیکیورٹی حکام نے جنوبی یمن سے 2014ء کے آخر میں حضر الموت میں المکلا کے مقام سے چھاپے کے دوران حراست میں لیا۔ یمن کے پبلک پراسیکیوٹر کی جانب سے ملزم کے خلاف تحقیقات ایک فوج داری عدالت میں شروع کی گئی ہیں۔

یمنی پولیس کے مطابق پکڑے گئے 51 سالہ مبینہ ایرانی جاسوس کا اصل نام حامد مرزا کمالی سروستانی ہے تاہم یمن میں وہ حامد کمالی محمد بن حیدرہ کے نام سے سرگرم رہا ہے۔ وہ پچھلے کئی سال سے حضرت موت میں لمکلا شہر میں آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گرفتار مشتبہ ایرانی جاسوس پر الزام ہے کہ اس نے سنہ 1991ء سے 2014ء تک ایک دشمن ملک کے لیے جاسوسی کا گھنائونا کھیل جاری رکھا ہے۔ اس نے یمن میں بیت العد الاعظم کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کر رکھا تھا جس کے ذریعے وہ ملک میں بہائی فرقے کی تبلیغٖ کے ساتھ یمن کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل ملزم کا والد بھی یمن میں مسلمانوں کو ورغلانے اور انہیں بہائی عقائد قبول کرنے میں مصروف رہا ہے۔ اپنے ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے دونوں باپ بیٹے نے یمن میں کئی تجارتی اور اقتصادی منصوبے بھی شروع کر رکھے تھے اور ان کی آڑ میں وہ اپنی تخریبی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے تھے۔

مرزا کمالی نے اپنی اصلیت چھپانے کے لیے اپنی تمام دستاویزات میں بھی رد وبدل کررکھا تھا۔ جس میں اس کے نام کی تبدیلی سمیت دیگر اہم معلومات کو بھی غلط ملط کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں