اقوام متحدہ:شام میں مزید مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کی سربراہ ولیری آموس نے شام سمیت خانہ جنگی کا شکار ممالک اور بحران زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی امداد کے لیے مزید اقدامات اور مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بعض ممالک انسانی امداد کی سرگرمیوں میں اپنی علاقائی خودمختاری کا بہانہ کر کے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

ولیری آموس نیویارک میں خارجہ تعلقات کونسل میں تقریر کررہی تھیں۔انھوں نے اس میں شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کو امداد مہیا کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ دو قرار دادوں کا حوالہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ''میں نہیں سمجھتی کہ شامی حکومت مجھے کبھی معاف کرے گی کیونکہ وہ مجھے سلامتی کونسل میں ان دونوں قراردادوں کی منظوری کی ذمے دار سمجھتی ہے''۔

ولیری آموس نے کہا ہے کہ وہ شام کے حوالے سے خود کو کم تر درجے میں شمار کرتی ہیں کیونکہ ہمیں شام میں انسانی امداد کی فراہمی سے متعلق قراردادوں کی سلامتی کونسل سے بہت پہلے منظوری لینی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ''اقوام متحدہ کے اداروں میں احتساب کا کافی عمل موجود نہیں ہے اور سلامتی کونسل خود دنیا بھر بین الاقوامی انسانی قانون کی ننگی خلاف ورزیوں کا اعتراف کرتی ہے لیکن ان کو روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا ہے''۔

مس آموس نے کہا کہ ''دنیا میں لاکھوں لوگوں کو گھربار چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا ہے،بہت سے ممالک میں خواتین اور لڑکیوں سے نازیبا سلوک جاری ہے لیکن اس کے ذمے داروں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔میں یہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ہمیں زیادہ درانداز نہیں ہونا چاہیے''۔

تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ کسی ملک میں مداخلت سے ان کی مراد برسرزمین بوٹوں کی موجودگی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ''ایک ڈھانچا اور ادارہ پہلے سے موجود ہے، قاعدے اور قوانین بھی موجود ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہم خود کو قابل احتساب نہیں سمجھتے ہیں اور میری نظر میں یہی سب سے بڑی اور نمایاں ناکامی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں