.

جرمن چانسلر اور وزراء کی مسلمانوں کی ریلی میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمن دارالحکومت برلن میں مسلم تنظیموں کی جانب سے منعقد کردہ عوامی ریلی میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور ان کی کابینہ کے اہم وزراء نے شرکت کی ہے۔

مسلم رہنماؤں کا مقصد اس ریلی کے ذریعے معاشرے میں مختلف نکتہ ہائے نظر اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے حوالے سے کھلے پن اور برداشت کا فروغ ہے۔

دارالحکومت کے تاریخی برانڈبرگ دروازے پر منگل کے روز جمع ان ہزاروں افراد نے گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت اور ہلاک شدگان کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ ان حملوں میں مشتبہ اسلام پسند ملوث تھے۔

جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل اور برلن کی ترک مسلم کمیونٹی کی جانب سے اس ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ اس ریلی کے لیے 'آئیے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو جائیں، دہشت گردی: ہمارے نام پر نہیں‘ کا نعرہ استعمال کیا گیا ہے۔

اس ریلی میں جرمن صدر یوآخم گاؤک، چانسلر مرکل، نائب چانسلر زگمار گابریل، اور وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر سمیت دیگر جرمن سیاست دانوں کے علاوہ ٹریڈ یونینز، کاروباری شخصیات اور مسیحی اور یہودی برادری کے افراد بھی شریک ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پیرس میں طنزومزاح پر مبنی مضامین شائع کرنے والے ہفت روزہ چارلی ہیبڈو پر حملے میں دس صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ ایک دوسرے واقعے میں مبینہ طور پر ایک مسلم شدت پسند نے ایک یہودی مارکیٹ پر حملہ کر کے متعدد افراد کو ہلاک کر دیا تھا-

جرمنی میں بڑھتے ہوئے ’اسلام کے خوف‘ اور اسی تناظر میں اسلام مخالف تنظیم کی مقبولیت میں اضافے کی وجہ سے اس ریلی کے ذریعے ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب سے وابستہ افراد کے درمیان برداشت اور تحمل کے فروغ کی کوشش بھی کی جا رہی ہے-

جرمنی کے وفاقی پولیس دفتر برائے جرائم کے مطابق فی الحال ملک میں دہشت گردی کے کسی منصوبے کے حوالے سے کوئی ٹھوس معلومات یا شواہد موجود نہیں ہیں، تاہم اس ادارے کی ایک ترجمان کے مطابق ملک میں 260 شدت پسند مسلمان موجود ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ روز اسلام مخالف تنظیم پیگیِڈا کی مخالفت میں جرمنی بھر میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے مختلف شہروں میں مہاجرین اور مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے مظاہرے کیے۔ واضح رہے کہ مشرقی جرمن شہر ڈریسڈن میں پگیِڈا ہر پیر کے روز ایک مسلم مخالف ریلی نکالتی ہے۔ سیاست دانوں کی جانب سے پیگیڈا کی ریلی میں شرکت نہ کرنے کی اپیلوں کے باوجود گزشتہ روز تقریباﹰ 25 ہزار افراد نے ڈریسڈن میں اسلام مخالف ریلی میں شرکت کی۔ تاہم دوسری جانب پگیڈا کی مخالفت میں بھی مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں۔

منگل کے روز برلن میں اپنے ایک خطاب میں مرکل نے ایک مرتبہ پیگیڈا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ میرکل کا کہنا تھا، ’وہ لوگ جو اپنی زندگی بچانے کے لیے ہمارے پاس آتے ہیں، ان کا حق ہے کہ ان کے ساتھ بہتر انداز سے پیش آیا جائے۔‘