.

پیرس حملے، عالمی ردعمل ناگزیر:امریکا

داعش کو شکست دینا تنہا عراق نہیں ،عالمی ذمے داری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف امریکا کی قیادت میں فوجی اتحاد کے لیے خصوصی ایلچی ریٹائرڈ جنرل جان ایلن کا کہنا ہے کہ پیرس اور دوسرے مغربی شہروں میں جنگجوؤں کے حالیہ مہلک حملوں کے بعد داعش کے خلاف عالمی ردعمل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

امریکی جنرل جان ایلن نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں بدھ کو ایک نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''پیرس میں گذشتہ ہفتے رونما ہونے والے المیے کے بعد ایک مرتبہ پھر واضح ہوگیا ہے کہ عراق عالمی تنازعے میں فرنٹ لائن کی حیثیت رکھتا ہے''۔

وہ پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے دفتر اور یہود کے ملکیتی ایک گراسری اسٹور پر حملے کا حوالہ دے رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''داعش کے تاریک مگر متشدد نظریے کی دور تک رسائی ہوچکی ہے اور اس سے سڈنی ،اوٹاوا اور برسلز میں حملوں کے لیے جنگجو متاثر ہورہے ہیں''۔

امریکی جنرل کا کہنا تھا کہ ''اس صورت حال میں کوئی بھی یہ نہیں کہ سکتا ہے کہ داعش کو شکست سے دوچار کرنا تنہا عراق کی ذمے داری ہے۔داعش ایک عالمی خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ایک عالمی ردعمل کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت آٹھ ممالک عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں جبکہ بارہ ممالک نے عراقی سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کے وعدے کیے ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک عراق کی وفاقی اور کرد فورسز کے پانچ، پانچ ہزار اہلکاروں کو مرحلہ وار تربیت دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ان اہلکاروں کو عراق کے پانچ مختلف مقامات پرچھے سے آٹھ ہفتے تک تربیت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ عراق میں امریکا ،آسٹریلیا ،بیلجیئم ،کینیڈا ،ڈنمارک ،فرانس ،نیدر لینڈز اور برطانیہ کے لڑاکا طیارے داعش کے ٹھکانوں اور ان کی تنصیبات پر اگست سے حملے کررہے ہیں جبکہ شام میں امریکا کے علاوہ بحرین ،اردن ،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے داعش کے خلاف ستمبر سے فضائی مہم میں شریک ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی اور عرب ممالک کی اس جنگی مہم کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کا خاتمہ کرنا اور ان کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینا ہے تاکہ عراق اور شام کے علاوہ مغربی دنیا کو داعش کے خطرے سے محفوظ بنایا جاسکے۔داعش نے شام اور عراق کے ایک بڑے حصے پر گذشتہ سال جون میں قبضے کے بعد سے اپنی حکومت قائم کررکھی ہے۔

گذشتہ پانچ ماہ سے جاری اس فضائی مہم سے امریکی اتحادیوں کو صرف یہ کامیابی ملی ہے کہ انھوں نے داعش کی پیش قدمی روک دی ہے اور ان کی آزادانہ نقل وحرکت کو محدود کردیا ہے لیکن عراق میں برسرزمین سرکاری سکیورٹی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشائیں ابھی تک داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس نہیں لے سکی ہیں۔