.

چارلی ہیبڈو میں پھر توہین آمیز کارٹون

اسلامی ممالک اور اداروں کی تنقید،امریکا اور آسٹریلیا کی حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے طنزیہ میگزین چارلی ہیبڈو نے اپنے دفتر پر حملے کے ایک ہفتے کے بعد ایک مرتبہ پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین پر مبنی کارٹون شائع کردیا ہے جس پر مسلم ممالک اور اسلامی اداروں نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکا اور آسٹریلیا نے آزادی اظہار کے نام پر اس کی حمایت کی ہے۔

چارلی ہیبڈو کے دفتر پر بدھ سات جنوری کو دو بھائیوں کے حملے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان میں پانچ کارٹونسٹ شامل تھے۔اس کے باوجود چارلی ہیبڈو کے نئے شمارے کے صفحہ اول پر ایک ایسا کارٹون شائع کیا گیا ہے جس کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔اس نے ''میں چارلی ہوں'' کی تحریر والا کاغذ پکڑا ہوا ہے۔اس کارٹون کو بنانے والے نے کہا ہے کہ یہ ہمارے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔

ایران نے فرانسیسی میگزین کے اس کور کو ''توہین آمیز'' اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے کہا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور اس سے انتہا پسندی کا ایک نیا منحوس چکر شروع ہوسکتا ہے۔

ایران نے پیرس میں اس میگزین کے دفتر پر حملے کی اسی روز مذمت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ اس طرح کے حملوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔

تاہم مرضیہ افخام نے کہا ہے کہ ''میگزین میں نیا کارٹون تقریر کی آزادی کا غلط استعمال ہے اور یہ ان دنوں مغرب میں عام ہے کہ آزادی اظہار کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔اس طرح کی اشاعتیں ناقابل قبول ہیں اور اس انداز میں پیغمبروں کی توہین کو روکا جانا چاہیے''۔انھوں نے کہا کہ الہامی مذاہب کے پیروکاروں کے عقائد اور اقدار کا احترام ایک قابل قبول اصول ہے۔

مصر کی تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر نے خبردار کیا ہےکہ فرانسیسی ہفت روزے چارلی ہیبڈو میں نئے کارٹونوں کی اشاعت سے نفرت ہی کو تقویت ملے گی۔ الازہر کے اسلامی تحقیقی ادارے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ان خاکوں کی اشاعت سے لوگوں کے آپس میں مل جل کر رہنے اور خاص طور پر مسلمانوں کے یورپی اور مغربی معاشروں میں رہنے کے حوالے سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔

مصر کی سرکاری اتھارٹی دارالافتاء نے بھی نئے کارٹون کو اشتعال انگیز قرار دے کر اس کی مذمت کی ہے۔اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فعل دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''میگزین کے اس ایڈیشن سے فرانسیسی اور مغربی معاشرے میں نفرت کی ایک نئی لہر پھیلے گی۔یہ میگزین جو کچھ کررہا ہے،اس سے اکٹھے مل جل کر رہنے اور کلچرل ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی خدمت نہیں ہوگی''۔

قطر میں علامہ یوسف القرضاوی کی قیادت میں مسلم علماء اور اسکالروں کی بین الاقوامی یونین نے بھی اس ہفت روزہ اخبار کے نئے کارٹون شائع کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نفرت ہی بڑھے گی۔

یونین نے ایک طویل مذمتی بیان میں کہا ہے کہ ''پیغمبر اسلام صلی اللہعلیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت یا ان کے بارے میں کوئی فلم بنانا نہ تو منطقی فعل ہے اور نہ عاقلانہ''۔ معروف سعودی عالم دین شیخ احمد الغامدی نے کہا ہے کہ میگزین میں نئے توہین آمیز کارٹون کی اشاعت لوگوں کو سمجھانے کا اچھا طریقہ نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور باقی انبیاء اللہ کے پیامبر ہیں اور ان کا تصاویر یا الفاظ میں مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔

درایں اثناء جنگجو تنظیم جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے پیرس میں چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔عراق اور شام میں برسر پیکار اس کی معاصر تنظیم دولت اسلامی (داعش) کے البیان ریڈیو نے نئے توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کو انتہائی احمقانہ فعل قرار دیا ہے۔

امریکا اور آسٹریلیا کی حمایت

مسلم ممالک اور تنظیموں کی جانب سے توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کی شدید مخالفت کے باوجود امریکا کی اوباما انتظامیہ نے اس فعل کی حمایت کی ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے نئے کارٹونز پر تنقید کرنے سے انکار کردیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری حرف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کسی کی ذاتی رائے سے قطع نظر ہم چارلی ہیبڈو کے اس طرح کی چیزوں کو شائع کرنے کے حق کی حمایت کرتے ہیں''۔

ادھر آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے بھی کہا ہے کہ وہ چارلی ہیبڈو میں اس کارٹون کی اشاعت کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس میں معاف کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چارلی ہیبڈو میں چھپنے والی ہر چیز کو تو پسند نہیں کرتے ہیں لیکن اس کارٹون کی حمایت ضرور کرتے ہیں۔

چارلی ہیبڈو نے بدھ کو حملے کے بعد اپنا نیا شمارہ شائع کیا ہے اور گذشتہ ہفتے اس کے دفتر پر حملے کے بعد سے اس کی مانگ میں کئی گنا تک اضافہ ہوا ہے۔اس کے سرورق پر توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے باوجود فرانسیسوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے اوراس کی خریداری کے لیے کتب خانوں اور اخبارات کے بیشتر اسٹالوں پر لوگوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔اس میگزین کی اس سے پہلے ہفت وار اشاعت ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی لیکن اب نئے شمارے کی سات لاکھ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ نکل گئی ہیں اور میگزین قارئین کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے پچاس لاکھ تک اپنی نئی کاپیاں چھاپ رہا ہے۔