یمنی القاعدہ کا چارلی ہیبڈو پر حملے کا دعویٰ

حملے کا حکم القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری نے دیا تھا:ویڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں القاعدہ کی شاخ نے پیرس میں گذشتہ بدھ کو توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چالی ہیبڈو پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے آن لائن ایک ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں اس کے ایک رہ نما ناصرالانسی نے کہا ہے کہ ''ہم نے فرانسیسی ہفت روزے سے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے شائع کرنے کا انتقام لیا ہے اور ہم اس آپریشن کی ذمے داری قبول کرتے ہیں''۔

اس ویڈیو کا عنوان ''پیرس میں مقدس جنگ سے متعلق پیغام'' ہے۔الانسی نے کہا ہے کہ القاعدہ کے عالمی رہ نما ڈاکٹر ایمن الظواہری نے اس حملے کا حکم دیا تھا۔جزیرہ نماعرب میں القاعدہ کی شاخ نے ہدف کا انتخاب کیا تھا اور اس منصوبے کے لیے رقوم مہیا کی تھیں۔اس کارروائی کو انجام دینے کے لیے ہیروز کا انتخاب کیا گیا تھا اور انھوں نے اس آواز پر لبیک کہا ہے''۔

چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرنے والے کواشی برادران میں سے ایک سعید کواشی نے فائرنگ کے بعد کار میں سوار ہوتے ہوئے کہا تھا کہ ''میڈیا کو بتا دو یہ یمن میں القاعدہ ہے''۔اس حملہ آور نے مبینہ طور پر یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔دونوں مشتبہ بھائی گذشتہ جمعہ کو فرانسیسی کمانڈوز کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

یمن کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق سعید کواشی سنہ 2009ء سے 2013ء کے درمیان متعدد مرتبہ یمن میں موجود پایا گیا تھا۔وہ پہلے صنعا میں جامعہ الایمان میں زیر تعلیم رہا تھا۔اس کے بعد وہ یمن کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں میں القاعدہ کے زیرانتظام کیمپوں میں زیرتربیت رہا تھا۔

سعید کواشی اور ان کے چھوٹے بھائی شریف کواشی نے 7 جنوری کو مسلم رہ نماؤں کا مضحکہ اڑانے اور سنہ 2006ء اور 2011ء میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو کے پیرس میں واقع دفاتر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے تھے۔

امریکی حکام کے مطابق یمنی انٹیلی جنس اس بات سے آگاہ تھی کہ سعید کواشی نے 2011ء میں یمن کا سفر کیا تھا اور وہاں القاعدہ کی علاقائی شاخ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے کیمپوں میں ہلکے ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل تھی۔

یمنی القاعدہ کے ایک رکن نے بھی سوموار کو ایسوسی ایٹڈ پریس کوجاری کردہ ایک انگریزی بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ''ان کی تنظیم کی قیادت نے اس کارروائی کی ہدایت کی تھی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا انتقام لینے کے لیے بڑی احتیاط سے ان کے ہدف کا انتخاب کیا گیا تھا''۔

تاہم امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے دوروز پہلے یہ کہا تھا کہ امریکا کو ابھی تک پیرس حملے میں القاعدہ سمیت کسی تنظیم کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ٹھوس انٹیلی جنس معلومات نہیں ملی ہیں۔ایرک ہولڈر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ''اس مرحلے پر ہمارے پاس ایسی کوئی قابل اعتبار معلومات نہیں ہیں جس سے یہ پتا چل سکے کہ پیرس حملے میں کس تنظیم کا ہاتھ کارفرما ہے''۔

واضح رہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ جنوری 2009ء میں القاعدہ کی یمن اور سعودی عرب میں شاخوں کے انضمام کے بعد معرض وجود میں آئی تھی۔امریکا اس کو دنیا بھر میں جہادی نیٹ ورکس کی سب سے خطرناک شاخ قرار دیتا ہے۔امریکا نے یمن میں القاعدہ کی اس شاخ سے وابستہ جنگجوؤں پر متعدد ڈرون حملے کیے ہیں اور یمنی فورسز کے ساتھ مل کر ملک کے جنوب میں کارروائیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرنے والے کواشی برادران میں سے ایک سعید کواشی نے یمن میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔
چارلی ہیبڈو کے دفتر پر حملہ کرنے والے کواشی برادران میں سے ایک سعید کواشی نے یمن میں عسکری تربیت حاصل کی تھی۔
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں