''پانچ آنکھیں ممالک'' کا لندن اجلاس

پیرس حملوں کے بعد دہشت گردی مخالف حکمت عملی پرغور ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دنیا میں سراغرسانی کے سب سے بڑے نیٹ ورک میں شامل پانچ ممالک کا آیندہ ماہ لندن میں اجلاس ہوگا جس میں پیرس میں حالیہ حملوں کے بعد دہشت مخالف جنگ کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

کینیڈا کے پبلک سیفٹی کے وزیر اسٹوین بلانے نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''پانچ آنکھیں ممالک کا 22 جنوری کو اجلاس ہوگا'' لیکن ایک کینیڈین عہدے دار نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجلاس اس تاریخ کے بجائے فروری میں کسی وقت ہوگا۔اس گروپ میں امریکا ،آسٹریلیا ،برطانیہ،کینیڈا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔

مسٹر بلانے کے مذکورہ بیان کو غیر معمولی قراردیا گیا ہے کیونکہ ماضی میں ''پانچ آنکھیں نیٹ ورک'' اپنی سرگرمی سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کرتا رہا ہے۔بلانے نے سی ٹی وی ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہمارا لندن میں پانچ آنکھیں کے باقی اتحادیوں کے ساتھ اجلاس ہوگا۔یہ ایک سنجیدہ اجلاس ہوگا اور دہشت گردی اس کے ایجنڈے میں شامل ہے''۔

انھوں نے لندن اجلاس کے متعلق مزید تفصیل نہیں بتائی اور صرف یہ کہا ہے کہ اس میں امریکی وزیر برائے ہوم لینڈ سکیورٹی جیہ جانسن شرکت کریں گے۔کینیڈین حکومت کے ایک عہدے دار نے اپنے وزیر کے اس بیان کے بعد کہا ہے کہ ان پانچوں ممالک کا دراصل فروری میں اجلاس ہوگا۔

اس کینیڈین عہدے دار کے بہ قول:''لندن اجلاس پیرس میں حملوں سے قبل ہی طے شدہ تھا۔پانچ آنکھیں ممالک باقاعدگی سے اپنے اجلاس منعقد کرتے اور ان میں اپنے تحفظات ،تشویش اور حکمت عملیوں کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں''۔

اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ آیندہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔تاہم انھوں نے اس کے ایجنڈے کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔واضح رہے کہ اس گروپ میں شامل پانچوں ممالک نے دنیا کو سراغرسانی کے نقطہ نظر سے نگرانی کے لیے آپس میں تقسیم کررکھا ہے اور وہ اپنے انٹیلی جنس نتائج کا باہمی تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کے انٹیلی جنس حکام نے فرانسیسی حکام سے پیرس حملوں میں ملوث مشتبہ افراد کی سفری تاریخ سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔انھوں نے پیرس میں چارلی ہیبڈو پر حملے کے مرکزی کردار سعید کواشی کی یمن میں موجودگی سے متعلق معلومات فرانسیسی حکام کو فراہم کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں