.

آزادیِ اظہار کی حدود ہیں:پوپ فرانسیس

کسی کے دین یا عقیدے کا مضحکہ نہیں اڑایا جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز کارٹون کی دوبارہ اشاعت کو یہ کہ کر مسترد کردیا ہے کہ آزادی اظہار کی بھی کچھ حدود وقیود ہیں۔

پوپ فرانسیس نے فلپائن کے دورے پر جاتے ہوئے پیرس میں دہشت گردی کے حملے کے حوالے سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے اور آزادی اظہار کے حق کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے لیکن اس کی بھی حدود ہیں۔انھوں نے اپنی گفتگو میں پیغمبر اسلام یا کسی اور نبی کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ بار بار کہا ہے کہ کسی کے دین یا عقیدے کی توہین نہیں کی جانی چاہیے۔

انھوں نے اس کی مثال بھی دی ہے اور اپنے دوروں کے منتظم اور طیارے میں اپنے ساتھ محو سفر البرٹو گاسپاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر میرے اچھے دوست ڈاکٹر گاسپاری میری ماں کے بارے میں کوئی نازیبا لفظ کہیں گے تو وہ مجھ سے ایک دوہتڑ کی توقع کرسکتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ معمول کی بات ہے۔آپ دوسروں کے عقیدے کی توہین نہیں کرسکتے۔آپ دوسروں کے عقیدے کا مذاق بھی نہیں اڑاسکتے''۔واضح رہے کہ چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر سات جنوری کو حملے کے بعد اس میگزین کی جانب سے نئے شمارے میں گستاخانہ کارٹون کی دوبارہ اشاعت کا بہت سے عالمی لیڈروں نے دفاع کیا ہے اور اس کو آزادیِ اظہار کا نام دیا ہے۔

مگر ویٹی کن اور فرانس کے چار سرکردہ علمائے دین نے اس گستاخانہ روش کی تائید نہیں کی ہے۔انھوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں پیرس حملوں کی مذمت کی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ میڈیا پر زوردیا گیا ہے کہ وہ مذاہب کا احترام کرے۔

پوپ فرانسیس نے ایک فرانسیسی صحافی کے سوال کے جواب میں اس سے بھی دوقدم آگے بڑھ کر کہا ہے کہ جب ''کسی کے عقیدے کا معاملہ آتا ہے تو پھر آزادی اظہار کی کچھ حدود ہیں''۔ان سے سوال کیا گیا تھا کہ جب آزادی اظہار کا مذہب کی آزادی سے ملاپ ہوتا ہے تو کیا اس وقت کچھ حدود ہیں؟

پوپ کا کہنا تھا کہ ''اللہ کے نام پر قتل ایک انحرافی رویہ ہے اور مذہب کو تشدد کے جواز میں پیش نہیں کیا جاسکتا ہے۔تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ''بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مذہب یا دوسرے مذاہب کے بارے میں برے طریقے سے بات کرتے ہیں،وہ ان کا ٹھٹھا اڑاتے ہیں اور دوسروں کے دین کو کھیل تماشا بناتے ہیں۔یہ لوگ اشتعال انگیزی پھیلانے والے فتنہ پرور ہیں۔ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو سلوک ڈاکٹر گاسپاری کے ساتھ ان کی جانب سے میری ماں کے بارے میں نازیبا الفاظ بولنے پر کیا جائے گا''۔