امریکی جیوری میں فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کا ٹرائل

دوہزار ایک سے دوہزار چار کے پرتشدد واقعات کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں قائم کی گئی ایک جیوری نے فلسطینی اتھارٹی اور پی ایل او کا اس حوالے سے ٹرائل شروع کر دیا ہے کہ آیا جنوری دوہزار ایک سے فروری دوہزار چار کے دوران اتھارٹی اسرائیل میں تشدد کے واقعات میں ملوث رہی ہے یا نہیں۔

'' العربیہ نیوز'' کے مطابق یہ جیوری چھ مرد ارکان اور چھ خواتین ارکان پر مشتمل ہے۔ یہ بارہ رکنی جیوری اس امر کا تعین کرے گی کہ فلسطینی اتھارٹی کواس جرم میں مدعی کو ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم مدعی کو ادا کرنا ہے یا نہیں۔

وکیل استغاثہ کینٹ یالو ویٹز کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی فائرنگ اور بم مارنے کے سات واقعات میں تینتیس کو ہلاک اور چار و پچاس سے زائد اسرائیلیوں کو زخمی کیا گیا تھا۔ ان افراد میں امریکی بھی شامل تھے۔

اسی دوران وکیل صفائی مارک راچون کا موقف تھا کہ جیوری ایک ایسی حکومت کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانے کا اختیار نہیں رکھتی ہے جو ایک لاکھ سے زائد ملازمین رکھتی ہو، وکیل کے مطانق مذکورہ حملے چند لوگوں نے اپنے طور پر کیے تھے۔ بصورت دیگر ان لوگوں نے حماس یا الاقصی شہداء بریگیڈ کی طرف سے کیے تھے۔

حماس اور الاقصی شہداء بریگیڈ کو امریکا نے پہلے ہی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ واضح رہے یہ ٹرائل امریکا کے ضلعی جج جارج ڈینئیل کے سامنے مین ہٹن میں پچھلے بارہ ہفتوں توقع کیا جا رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں