.

جان کیری اور جواد ظریف کی پانچ گھنٹے لمبی ملاقات

ایرانی جوہری تنازعے کو وسیع تر تناظر میں زیر بحث لایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان جنیوا میں ہونے والی ملاقات کو امریکی حکام نے بامعنی اور پرمغز مذاکرات کا نام دیا ہے۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریفی کے درمیان یہ ملاقات پانچ گھنٹے تک جاری رہی۔

دو روز قبل امریکی صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو پیشگی طور پر اس ملاقات کے حوالے سے فون پر اعتماد میں لیا تھا۔ امریکی صدر نے بنجمن نیتن یاہو کو یقین دلایا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام مکمل پر امن ہو گا اور اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

امریکی حکام نے جنیوا میں ہونے والی ملاقات کے بارے میں کہا تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات میں چیزوں کو وسیع تر تناظر میں دیکھا گیا ۔ جبکہ دونوں طرف سے ملاقات میں شریک حکام کی تعداد انتہائی محدود تھی۔

معلوم ہوا ہے کہ فرانس کے وزیر خارجہ لاورینٹ فابئیس اور جواد ظریف کے درمیان بھی جمعہ کے روز پیرس میں ملاقات متوقع ہے۔ واضح رہے یہ ملاقاتیں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں ایران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو جلد نتیجہ خیز بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

ایرانی جوہری تنازعے کو طے کرنے کی خاطر حتمی معاہدے کے لیے اب یکم جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے یہ ڈیڈ لائن چوبیس نومبر دوہزار چودہ تھی، لیکن اس ڈیڈ لائن کے مطابق معاہدہ ممکن نہ ہو سکا تھا۔

ایرانی اور فرانسیی وزرائے خارجہ کے مابین ہونے والی ملاقات اسی روز ہو گی جب جان کیری فرانس کے صدر فرانسو اولاند اور فرانسیسی وزیر خارجہ سے پیرس میں ملیں گے۔ تاہم اس امر کی امریکی حکام نے تصدیق نہیں کی ہے کہ پیرس میں ہوتے ہوئے ایرانی حکام سے دوبارہ ملاقات یا رابطہ ہو گا۔