.

حرمین توسیعی منصوبے کی تکمیل بروقت ہو گی: ابراہیم الساف

سعودی وزیر خزانہ نے حرمین شریفین توسیعی منصوبے کا جائزہ لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ کی خصوصی ہدایات کے مطابق حرمین شریفین توسیعی منصوبے کے تکمیلی مراحل تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں۔ یہ بات سعودی وزیر خزانہ ابراہیم الساف نے مسجد حرام اور مسجد نبوی میں تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لینے کے بعد کہی ہے۔

وزیر خزانہ نے دونوں مقدس مقامات پر جاری کام کا معائنہ شاہ عبداللہ کی خصوصی ہدایت پر کیا۔ وزیر خزانہ کا اس نوقع پر کہنا تھا توسیعی منصوبہ برائے حرمین شریفین اپنی مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایسےعظیم منصوبے اسلام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کے زمرے میں آتے ہیں۔

واضح رہے حرمین شریفین کی تاریخ کے اس عظیم توسیعی منصوبے پر اسی ارب سعودی ریال کی خطیر رقم خرچ ہو گی۔ توسیع مکمل ہونے کے بعد مسجد حرام میں پچیس لاکھ نمازیں یا حجاج بیک وقت عبادت کر سکیں گے، جبکہ مسجد نبوی میں نمازیوں کی بیک وقت گنجائش بڑھ کر پندرہ لاکھ ہو جائے گی۔

مکہ معظمہ میں وزیر خزانہ نے شاہ عبدالعزیز ٹاور کے عقب میں پبلک ٹرانسپورٹ سٹیشن، ایک نئے ہسپتال کے منصوبے، سکیورٹی کے امور سے متعلق عمارات اور پیدل چل کر مسجد حرام آنے والوں کے لیے بنائے والے زیر زمین راستوں کی تعمیر کا بھی جائزہ لیا۔

ان کے اس دورے کا اہم ترین مرحلہ مطاف کی توسیع کے لیے تعمیراتی کام کا جائزہ لینا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شاہ عبداللہ کی ہدایت پر کام کی رفتار کا جائزہ لینے آئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے توسیعی منصوبے میں حصہ لینے والے حکام اور کارکنوں کی لگن کو سراہا۔

وزیر خزانہ نے کہا مسجد نبوی کی توسیع کے پہلے مرحلے میں مسجد کے مشرقی جانب کام مکمل ہو گا۔ اس مقصد کے لیے سات ہزار انجیئیر اور مزدور بروئے کار ہیں ۔ یہ مدینہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

وزارت خزانہ نے بتایا اس توسیعی منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے دس ہزار جائیدادوں اور املاک کو راستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ ان املاک میں سے پچیس سو کے مالکان کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں۔ جبکہ بقیہ کو بھی جلد ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔ وزیر خزانہ نے بتایا اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کمیٹی کام کر رہی ہے۔

خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے اس توسیعی منصوبے کا سنگ بنیاد ستمبر دوہزار بارہ میں رکھا تھا۔ اس منصوبے کے تحت مسجد نبوی کے شمال مشرق میں جدید عالمی معیار کی ایک نئی عمارت کی تعمیر بھی شامل ہے۔