.

داعش حلب سے صرف 20 میل دور:عالمی ایلچی

شہر میں جنگ بندی کے لیے اسد حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے اطلاع دی ہے کہ دولت اسلامی (داعش) کے جنگجو حلب شہر سے صرف بیس میل دور رہ گئے ہیں۔

اسٹافن ڈی مستورا نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام کے دوسرے بڑے شہر میں حزب اختلاف کے جنگجوؤں اور شامی حکومت کی فورسز کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حلب کو خالی نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔ہم شامی حکومت اور حزب اختلاف کے ساتھ حلب میں لڑائی کو منجمد کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی ایلچی کا کہنا ہے کہ ''حلب میں لڑائی کے نتیجے میں سب سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں اور وہ گذشتہ دوسال سے مصائب جھیل رہے ہیں۔اسی لیے ہم وہاں جنگ بندی چاہتے ہیں اور توقع ہے کہ اس سال کے دوران تنازعے کے سیاسی حل کے لیے پیش رفت ہوگی''۔

انھوں نے قبل ازیں بھی شامی حکومت اور حزب اختلاف کے بعض رہ نماؤں سے حلب میں لڑائی ''منجمد'' کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔مستورا نے اکتوبر میں حلب میں جنگ بندی کے لیے اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا تھا تاکہ خانہ جنگی کا شکار اس شہر میں متاثرین کو امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ سال بھی سنہ 2014ء کی طرح ثابت نہ ہو کیونکہ گذشتہ سال اقوام متحدہ سمیت ہم سب نے جنگ بندی کی اپیلیں سنی تھیں اور عملاً کچھ بھی نہیں ہوا تھا''۔

انھوں نے شام میں گذشتہ قریباً چار سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ہلاک اور بے گھر ہونے والے افراد کے نئے اعدادوشمار جاری کیے ہیں اور بتایا ہے کہ تنازعے سے متاثرہ قریباً ایک کروڑ بیس لاکھ شامیوں کو انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔چھہتر لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔تینتیس لاکھ افراد پڑوسی ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزاررہے ہیں اور خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ بیس ہزار افراد مارے جاچکے ہیں۔

واضح رہے کہ حلب 2012ء میں شامی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی چھڑنے کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہوچکا ہے۔شامی فوج کا شہر کے مغربی حصے پر کنٹرول ہے۔باغی جنگجوؤں نے شہر کے مشرقی حصے پر قبضہ کررکھا ہے اور سرکاری فوج نے حلب کے اس مشرقی حصے کا جزوی محاصرہ کر رکھا ہے۔

دمشق حکومت شہر میں جنگ بندی کے لیے باغی جنگجوؤں سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ وہ اپنے بھاری ہتھیار حوالے کردیں اور مقامی انتظامیہ کو اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نظم ونسق سنبھالنے دیں۔دوسری جانب باغی اس بات کی ضمانت طلب کررہے ہیں کہ لڑائی مکمل طور پر منجمد ہونی چاہیے اور حکومت اس کو فوجیوں کی شہر میں دوبارہ تعیناتی کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔

ماسکو مذاکرات

اسٹافن ڈی مستورا نے ماسکو میں اسی ماہ روس کی میزبانی میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے خوش امیدی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے تنازعے کے پُرامن حل کی راہ ہموار ہوگی۔

روس نے اسٹافن ڈی مستورا کو بھی ماسکو میں شام کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دے رکھی ہے۔اس روسی اقدام کا مقصد شام کے متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی ہے تاکہ بحران کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔

درایں اثناء شامی صدر بشارالاسد نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ماسکو میں مذاکرات میں طرفین ''دہشت گردی'' کے خلاف جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے اور اس بات چیت کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

انھوں نے جمہوریہ چیک کے ایک اخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ہم ڈائیلاگ شروع کرنے روس نہیں جارہے ہیں بلکہ حزب اختلاف کی شخصیات کے ساتھ ملاقات اور ڈائیلاگ کے فریم ورک پر تبادلہ خیال کے لیے جارہے ہیں''۔

تاہم ماسکو میں شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات غیریقینی صورت حال سے دوچار نظر آتے ہیں کیونکہ شام کی جلاوطن حزب اختلاف کی قیادت ان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرچکی ہے۔ بشارالاسد کی حکومت حزب اختلاف کی جن تحریکوں کو تسلیم کرتی ہے،ان میں زیادہ تر یا تو کریملن حکومت کی مذاکرات کی دعوت کو ٹھکرا چکی ہیں یا انھوں نے ماسکو نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔