.

مسلمان جنونیت کا سب سے زیادہ شکار ہیں:اولاند

کولیبالی کا پیرس حملوں سے قبل میڈرڈ میں کسی ساتھی کے ہمراہ قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے کہا ہے کہ مسلمان جنونیت ،بنیاد پرستی اور عدم رواداری سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

انھوں نے یہ بات جمعرات کو پیرس میں عرب ورلڈ انسٹی ٹیوٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے گذشتہ بدھ کو توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے ہفت روزہ اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے کے تناظر میں یہ تقریر کی ہے۔اس جریدے نے اپنے نئے شمارے میں ایک مرتبہ پھر آزادی اظہار کے نام پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے سرورق پر گستاخانہ کارٹون شائع کیا ہے۔

درایں اثناء جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے پارلیمان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''اسلامی انتہا پسندوں کا راستہ روکنے کے لیے سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے''۔انھوں نے واضح کیا ہے کہ ''اسلام کے نام پر نفرت پھیلانے والے مبلغین ،متشدد سماج دشمن عناصر ،ان کی پشت پناہی کرنے والوں اور بین الاقوامی دہشت گردی کے پیچھے کارفرما دانشوروں کے خلاف ریاست تمام قانونی طریقوں سے نمٹے گی''۔

کولیبالی میڈرڈ میں!

پیرس میں یہود کے ملکیتی سپر اسٹور پر حملہ کرنے والے آمدی کولیبالی کے بارے میں یہ نئی اطلاع سامنے آئی ہے کہ اس نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں تین دن گزارے تھے۔اس کے بعد وہ پیرس پہنچا تھا۔

ایک ہسپانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اب پولیس اس امر کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا میڈرڈ میں اس کے کوئی اور معاونین موجود تھے۔بارسلونا سے شائع ہونے والے اخبار لا وین گاردیا کہ رپورٹ کے مطابق وہ 30 دسمبر سے 2 جنوری تک میڈرڈ میں قیام پذیر رہا تھا۔اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا اور پولیس اب اس کا سراغ لگانے کی کوشش کررہی ہے۔

کولیبالی نے آٹھ جنوری کو پیرس کی ایک شاہراہ پر ایک خاتون پولیس افسر کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس کے ایک روز بعد گذشتہ جمعہ کو اس نے فرانسیسی دارالحکومت کے مشرق میں واقع کوشر سپر مارکیٹ میں دھاوا بول کر بعض افراد کو یرغمال بنا لیا تھا اور پھر ان میں سے چار کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اسی روز وہ پولیس کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

قبل ازیں اس کی اہلیہ حیات بوم الدین کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آچکی ہے کہ وہ پیرس حملوں سے قبل میڈرڈ میں موجود تھی۔وہ ایک پرواز کے ذریعے میڈرڈ سے استنبول پہنچی تھی۔وہاں اس نے قیام کیا تھا اور آٹھ جنوری کو شام کے لیے روانہ ہوگئی تھی۔

اب ہسپانوی حکام فرانسیسی حکام کے ساتھ مل کر بتیس سالہ کولیبالی کی سپین میں سرگرمیوں کی تحقیقات کررہے ہیں اور وہاں اس کے کسی ممکنہ ساتھی کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ہسپانوی حکام کے مطابق سال 2014ء کے دوران شام اور عراق سے قریباً ستر اسلامی جنگجو لوٹ کر واپس آئے تھے۔وزیرداخلہ جارج فرنانینڈیز دیاز نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ جنوری کے آغاز کے بعد دس پندرہ اور ہسپانوی وطن لوٹ چکے ہیں۔