.

الریاض :23 جنگجوؤں کو 20 سال تک قید

جیل سے رہائی کے بعد بیرون ملک جانے پر پابندی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی دارالحکومت الریاض میں ایک خصوصی عدالت نے تئیس افراد کو دہشت گردی کے مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر گیارہ ماہ سے بیس سال تک قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

استغاثہ کے مطابق یہ تمام مجرمان چھتیس جنگجوؤں پر مشتمل ایک بڑے گروپ کا حصہ تھے۔ان پر انحرافی نظریے کو قبول کرنے ،منی لانڈرنگ ،ہتھیاروں کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے اور دوسرے متعدد الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے۔

ان میں ایک مدعا علیہ یمنی شہری ہے۔عدالت نے اس کو منی لانڈرنگ کے الزام میں قصوروار ثابت ہونے پر بیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔اس سے برآمد ہونے والی رقم ضبط کر لی گئی تھی۔اس کو رہائی کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔باقی تمام مجرمان سعودی شہری ہیں اور عدالت نے قید کی مدت پوری ہونے کے بعد رہائی پر ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

ان مدعاعلیہان پر دہشت گردی کے ایک سیل میں شمولیت اختیار کرنے اور نوجوانوں کو تکفیری نظریے کو قبول کرنے کی دعوت دینے کا الزام تھا۔ان پر خانہ جنگیوں کا شکار ممالک میں جانے اور وہاں لڑائی میں شرکت کرنے کا بھی الزام تھا۔

انھوں نے سکیورٹی حکام کو مطلوب افراد کو پناہ مہیا کی تھی اور جنگجوؤں کو تنازعے والی جگہوں سے بھاگنے میں مدد دی تھی۔ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انھوں نے غیرملکی تارکین وطن کی نگرانی اور انھیں قتل کرنے کے لیے گروپ تشکیل دے رکھے تھے۔فوجداری عدالت نے مجرموں کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے تیس دن کی مہلت دی ہے۔