.

بیلجیئم :چھاپہ مار کارروائیاں، 13 مشتبہ افراد گرفتار

دو مسلح افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس کی ملک بھر میں کارروائیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئن پولیس نے دو مشتبہ مسلح افراد کی ہلاکت کے بعد ایک جنگجو گروپ کے خلاف ملک بھر میں ایک درجن سے زیادہ چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں اور تیرہ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹرز کے ترجمان نے جمعہ کو ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ مشرقی شہر وروئیے میں ایک اپارٹمنٹ سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران بندوقیں ،دھماکا خیز مواد اور پولیس کی وردیاں ملی ہیں۔حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ گروپ ممکنہ طور پر پولیس تھانوں پر حملے کرنے ہی والا تھا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ وروئیے میں جمعرات کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دونوں مسلح افراد اور پیرس میں گذشتہ ہفتے حملے کرنے والے اسلامی جنگجوؤں کے درمیان بظاہر کوئی رابطہ نظر نہیں آتا ہے۔پیرس میں تشدد کے تین الگ الگ واقعات میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ترجمان کے بہ قول ان مشتبہ افراد نے خود کار ہتھیاروں سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی تھی جس کے بعد وہ جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔یہ دونوں مقتول بیلجیئم ہی کے شہری تھے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد خانہ جنگی کا شکار شام سے وطن لوٹے تھے اور وہ پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

بیلجیئم کے وزیرخارجہ ڈائیڈئیر رینڈرس نے فرانس کے آئی ٹیلی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ''پولیس نے دہشت گردی مخالف ایک بڑا آپریشن مکمل کر لیا ہے اور اب ہم وروئیے اور دوسرے شہروں سے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کا جائزہ لے رہے ہیں''۔

بیلجیئن وزیراعظم چارلس مشعل نے ان چھاپہ مار کارروائیوں کے بعد قومی خطرے کی سطح دو سے بڑھا کر تین کردی ہے۔تاہم انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ ''ہم اس سے پہلے کسی خاص یا ٹھوس خطرات کے بارے میں آگاہ نہیں تھے''۔

واضح رہے کہ بیلجیئم کی آبادی کے تناسب سے اس کے شہریوں نے کسی بھی اور یورپی ملک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں شام میں جاری لڑائی میں حصہ لیا ہے۔ بیلجیئن حکومت کے اندازے کے مطابق اس کے قریباً ایک سو شہری لڑائی میں حصہ لینے کے بعد ملک لوٹ چکے ہیں اور مزید چالیس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وہاں لڑتے ہوئے مارے جاچکے ہیں جبکہ اس وقت قریباً ایک سو ستر شہری شام اور عراق میں مختلف جنگجو گروپوں کی صفوں میں شامل ہو کر لڑ رہے ہیں۔

شام اور عراق میں جاری جنگوں میں شریک یورپی نوجوانوں کے بارے میں مغربی حکومتیں گاہے گاہے اپنے خدشات کا اظہار کرتی رہتی ہیں اور انھیں سب سے بڑا خدشہ یہ لاحق ہے کہ یہ نوجوان اپنے اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہوسکتے ہیں اور حملے کرسکتے ہیں۔