.

دو اطالوی لڑکیاں النصرہ سے رہا ہو کر روم پہنچ گئیں

دونوں امدادی کارکن ماہ اگست میں گرفتار ہوئی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں عسکریت پسندوں کے زیر حراست دو اطالوی لڑکیوں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ دونوں اطالوی لڑکیاں پچھلے سال ماہ اگست سے زیر حراست تھیں۔ رہائی کے بعد براستہ ترکی جمعہ صبح اپنے ملک اٹلی پہنچ گئی ہیں۔

اس امر کا اعلان اطالوی حکومت کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق امدادی کارکن کے طور پر شام جانے والی یہ دونوں لڑکیاں وانیسہ مرزولو اور میتیو رینزی صحت کے شعبے سے وابستہ تھیں۔

ان اطالوی یرغمال لڑکیوں کے حوالے سے ویڈیو فوٹیج ماہ دسمبر کے اواخر میں سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنی حکومت سے رہائی کی کوشش کی اپیل کی تھی۔ دسمبر میں جاری ہونے والی ویڈیو میں النصرہ فرنٹ کا پرچم بھی نمایاں تھا اور ایک لڑکی کاغذ پر لکھی تحریر پڑھتے ہوئے دکھائی گئی تھی۔

ویڈیو میں ان لڑکیوں کا کہنا تھا ہم سخت خطرے میں ہیں اور ہمیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی القاعدہ سے منسلک اس شامی عسکری گروپ النصرہ فرنٹ نے کئی مغربی شہریوں کو شام میں یرغمال بنایا ہے۔

شام میں متعدد مغربی اور امریکی مرد شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد عسکریت پسند ان کے گلے کاٹنے کی ویڈیوز جاری کر چکے ہیں۔ لیکن النصرہ نے ان اطالوی لڑکیوں کو رہا کر دیا ہے۔ النصرہ اس سے پہلے یونانی راہباوں کے ایک گروپ کو بھی رہا کر چکی ہے۔

جمعہ کی صبح رہائی کے بعد اٹلی کے دارالحکومت روم سے متصل ایک ائیر پورٹ پر اتری ہیں۔ انہیں شام سے رہائی کے بعد ازین ترجی لے جایا گیا تھا۔ جہاں سے بذریعہ طیارہ روم پہنچیں۔