.

قرآن پاک جلانے میں بدنام پادری ’’چپس فروش‘‘ بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں گیارہ ستمبر2001ء میں دہشت گردی کے واقعات کے ردعمل میں قرآن پاک کے ہزاروں نسخوں کو نذرآتش کرنے کی دھمکی سے شہرت پانے والے بدنام زمانہ عیسائی پادری ٹیری جونز نے ایک نیا مشغلہ اختیار کرتے ہوئے ریاست فلوریڈا میں فنگر چپیس تیار کرنے والی ایک دکان ڈال لی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ٹیری جونز کے اس نئے مشغلے کے بارے میں مقامی امریکی میڈیا کے حوالے سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹیری جونز نے نائن الیون کے واقعے کے بعد اس کے رد عمل میں قرآن پاک کے 2998 نسخے نذرآتش کرنے کی دھکی دی تھی تاہم عالمی دبائو کے بعد اس نے ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں قرآن پاک جلانے کے مذموم ارادے کو تبدیل کرتے ہوئے ہرسال نائن الیون کی برسی پر ایک قرآن پاک جلانے کا اعلان کیا تھا۔

ٹیری جونز کی جانب سے قرآن کریم کے نسخوں کو نذرآتش کرنے کے اعلان کے بعد پوری دنیا میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی تھی اور خود امریکی حکومت بھی اس ایک پادری کے ہاتھوں یرغمال دکھائی دیتی تھی۔ موصوف نے اب ایک نیا شغل اختیار کرتے ہوئے فلوریڈا ریاست کے شہر’’براڈنٹون ‘‘ میں Fry Guys Gourmet Fries کے نام سے ایک دکان کھولی ہے جس میں فرانسیسی طرز سمیت مختلف نمونوں کے آلو کے چپس تیار کیے جاتے ہیں۔

باسٹھ سالہ ٹیری جونز کی زندگی عجیب مجموعہ اضداد ہے۔ ایک طرف اس کی اسلام دشمنی کی یہ انتہا کہ وہ صحائف سماوی کو بھی آگ میں جھونکے جیسے ناپاک ارادے پر قائم ہے اور دوسری جانب اس نے امن کی علامت کے طورپر ’’کبوتر مرکز برائے عالمی رابطہ’’ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کر رکھا ہے جس میں کبوتر کو ’امن کی علامت’ کے طورپر پش کیا گیا ہے۔

صرف یہی نہیں اس نے اسلام کے خلاف بغض کی اور نفرت کی آگ بجھانے کے لیے’’اسلام شیطان‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی تالیف کر رکھی ہے جس کی اب تک لاکھوں کاپیاں اور درجنوں ایڈیشن فروخت ہو چکے ہیں۔ اس کتاب نے ٹیری جونز کی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا۔ امن کی خواہش اور اشتعال انگیز طرز عمل کے درمیان سفر کرنے والے ٹیری جونزکو اب ایک چپس فروش کے روپ میں دیکھا جا رہا ہے۔

سنہ 2013ء میں القاعدہ نے اپنے ایک آن لائن جریدے میں ٹیری جونز اور فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو کے ایڈیٹر اسٹینفن چاربونیے کو اپنی ہٹ لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اسٹیفن کو گذشتہ ہفتے فرانس میں اخبار کے دفترمیں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اس کے انجام سے دوچار کر دیا ہے تام جونز ابھی اپنی باری کا منتظر ہے۔ مقتول اسٹیفن مبینہ طور پر جریدے چارلی ایبڈو میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کا ماسٹر مائینڈ سمجھا جاتا تھا۔

اپنے قاتل کے لیے ساڑھے چھ ملین ڈالر انعام کا اعلان

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدنام زمانہ عیسائی پادری ٹیری جونز ایک بیٹے لوقا اور بیٹی ایما کا والد ہے جبکہ اس کی اہلیہ وفات پا چکی ہے۔ امریکی اخبار’’Braddenton Herald‘‘ نے اپنی منگل کی اشاعت میں ٹیری جونز کے نئے مشغلے پر روشنی ڈالی ہے۔ آلو کے چپس تیار کرنے کی دکان کے ڈائریکٹر رابرٹ ٹاکیٹ کا کہنا ہے جونز میرا دوست ہے تاہم اس کے ماضی کے بعض افعال جن میں قرآن پاک کے نسخے جلانے کا عزم کرنا افسوسناک ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ پچھلے تین سال کے دوران ٹیری جونز کوقریبا 500 بارقتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اخبار کے مدیر کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹیریز جونز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے قاتل کیلیے چھ ملین اور پانچ سو ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ ٹیری جونز اوائل عمری میں ایک چھوٹے ریستوران میں بھی کام کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف مختلف کھانے بنانے کا ماہر ہے بلکہ بہترین معیار کے فنگر چپس بھی تیار کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ گائے پالنے کا بھی شوقین ہے۔ وہ اپنے پاس ہر وقت اور ہرحال میں ایک 40 ملی میٹر دھانے والا ایک پستول رکھتا ہے چاہے وہ چرچ میں عبادت ہی میں مشغول کیوں نہ ہو پستول اس کی بغل میں ہوتا ہے۔