.

لیبیا: متحارب دھڑے قومی حکومت کے ایجنڈے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے متحارب دھڑوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں دو روز تک مذاکرات کے بعد ملک میں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کے لیے ایک ایجنڈے سے اتفاق کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''مذاکرات کے شرکاء نے طویل غور و خوض اور باہمی تبادلہ خیال کے بعد قومی اتفاق رائے کی ایک حکومت کے قیام اور لڑائی کے خاتمے کے لیے ضروری سکیورٹی انتظامات پر مشتمل ایک ایجنڈے سے اتفاق کیا ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''شرکاء نے ایک ایسے متحد اور جمہوری لیبیا کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اظہار کیا ہے جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور انسانی حقوق کا احترام کیا جائے''۔

انھوں نے ایک دوسرے کے زیرحراست اغوا شدہ لوگوں کی رہائی ،خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے، ہوائی اڈوں کو کھولنے اور سمندری اور بری حدود کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات سے بھی اتفاق کیا ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے ساڑھے تین سال کے بعد بھی امن قائم نہیں ہوسکا ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں۔بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں دفاتر قائم ہے۔

دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسند گروپوں کے اتحاد فجر لیبیا کی حکومت قائم ہے۔ان دونوں کے تحت جنگجو گروپوں کے درمیان ملک کے مختلف علاقوں میں خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں۔مشرقی شہر بن غازی میں لیبیا کی فوج کے اسپیشل گروپ اور سابق جنرل خلیفہ حفتر کی فورسز مختلف اسلامی جنگجو گروپوں کے خلاف اکتوبر سے نبردآزما ہیں۔

اسلامی جنگجوؤں اور سابق باغی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا نے لیبیا کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ پر بھی قبضہ کررکھا ہے۔انھوں نے دسمبر میں تیل برآمد کرنے کے لیے استعمال ہونے والی بندرگاہوں پر کنٹرول کے لیے تباہ کن حملوں کا آغاز کیا تھا لیکن سرکاری فوج نے ان کے حملوں کو پسپا کردیا تھا۔

فجر لیبیا کے جنگجوؤں نے گذشتہ ماہ لیبیا کی تیل برآمد کرنے والی دو بندرگاہوں السدرہ اور راس لانوف پر قبضے کے لیے حملہ کیا تھا۔اس دوران تیل کے ایک ٹینک پر راکٹ گرنے سے آگ لگ گئی تھی جس نے دوسرے سات ٹینکوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور ان ٹینکوں میں موجود اٹھارہ لاکھ بیرل تیل آگ کی نذر ہو گیا تھا۔