.

کیری کا دورہ، حقانی نیٹ ورک پر پابندی کا اعلان

پاکستان کا قومی ایکشن پلان کے تحت گروپ کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے حالیہ دورے کے بعد افغانستان کے طالبان جنگجوؤں پر مشتمل اور القاعدہ کے اتحادی گروپ''حقانی نیٹ ورک'' پر پابندی عاید کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے وزیراعظم میاں نوازشریف سے اسلام آباد میں اسی ہفتے ملاقات میں حقانی نیٹ ورک کا معاملہ اٹھایا تھا اور ان پر زوردیا تھا کہ پاکستان دونوں پڑوسی ملکوں افغانستان اور بھارت کے علاوہ امریکا کے مفادات کے لیے خطرے کا موجب حقانی نیٹ ورک پر پابندی عاید کرے۔

امریکی حکام حقانی نیٹ ورک پر افغانستان میں حالیہ برسوں کے دوران بڑے تباہ کن حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کرتے چلے آرہے ہیں۔اس گروپ سے وابستہ جنگجو اور اس کے قائدین پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے ساتھ واقع شورش زدہ علاقے شمالی وزیرستان میں مقیم رہے ہیں اور وہ مبینہ طور پر سرحد کے آر پار آتے جاتے رہتے ہیں۔

پاکستانی حکومت کے ایک سینیر عہدے دار نے خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پر پابندی کے لیے باضابطہ اعلان آیندہ چند ہفتوں میں کردیا جائے گا۔اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ فوج اور حکومت عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک ہی صفحے پر ہیں اور اب ''اچھے'' یا ''بُرے'' طالبان میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی جارہی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ''جان کیری نے خاص طور پر حقانیوں کے خلاف کارروائی پر زوردیا تھا اور اس گروپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا''۔پاکستانی کابینہ کے ایک رکن کے بہ قول:''ہم نے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حصے کے طور پر حقانی نیٹ ورک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے''۔

حکومتِ پاکستان نے مسلح افواج اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قومی ایکشن پلان ترتیب دیا ہے اور یہ اقدام 16 دسمبر کو شمال مغربی شہر پشاور میں طالبان جنگجوؤں کے آرمی پبلک اسکول پر سفاکانہ حملے کے بعد کیا گیا تھا۔

فوج کے زیر انتظام اس اسکول پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں نے معصوم طلبہ کو انتہائی سفاکانہ انداز میں سروں میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔دہشت گردوں کے حملے میں ایک سو چونتیس طلبہ سمیت ایک سو انچاس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق حقانی نیٹ ورک پر پابندی لگانے کے لیے حکومتی حلقوں میں تند وتیز بحث ومباحثہ ہوتا رہا ہے۔بعض عہدے داروں کی یہ رائے تھی کہ اس گروپ کو دہشت گرد قرار دینے سے برسرزمین تو بہت تھوڑے اثرات مرتب ہوں گے لیکن اس فیصلے سے افغانستان میں مصالحت کے لیے کوششیں ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کے حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان آرمی گذشتہ سال جون سے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف ''ضربِ عضب'' کے نام سے ایک بڑا آپریشن کررہی ہے۔اس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ جنگجوؤں کے علاوہ دوسرے گروپوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور ان میں کوئی تمیز روا نہیں رکھی گئی ہے۔اس بات کو امریکا اور اس کے مغربی اتحادی بھی تسلیم کرتے ہیں۔

ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی علاقائی حدود میں حقانیوں کی سرگرمیوں کو تہس نہس کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے لیکن اب اس کو فالو اپ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حقانی یا دوسرے گروپ دوبارہ منظم نہ ہوسکیں اور دوبارہ شمالی وزیرستان میں اپنی خفیہ پناہ گاہوں کی جانب نہ لوٹ سکیں۔اس سفارت کار کے بہ قول ان جنگجو گروپوں کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں،ان کے فنڈز بلاک ہوچکے ہیں اور ان کے نیٹ ورکس کو توڑ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور مغربی میڈیا نے بزرگ افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی کے پیروکاروں اوران سے وابستہ جنگجو گروپ کو حقانی نیٹ ورک کا نام دے رکھا ہے۔اس گروپ کے افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں اور القاعدہ سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔امریکا جنگ زدہ افغانستان میں اپنی فورسز کے لیے اس گروپ کو سب سے خطرناک قرار دیتا رہا ہے۔

امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو حالیہ برسوں کے دوران افغانستان میں اپنے فوجیوں پر بڑے اور تباہ کن حملوں کا ذمے دار قراردیا تھا۔ان میں 2010 ء میں کابل میں امریکی سفارت خانے کا محاصرہ اور 2009ء میں مشرقی شہر خوست میں سی آئی اے کے مبینہ اڈے پر خودکش بم حملہ شامل تھا جس میں آٹھ انٹیلی جنس عہدے دار مارے گئے تھے اور اس کو سی آئی اے پر 25 سال کے بعد سب سے تباہ کن حملہ قراردیا گیا تھا۔