داعش کے وجود سے نہیں ڈرتے، شکست دیں گے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ اور امریکا مذہبی کٹر پن اور ملک کے اندر سے ہونے والی ’پرتشدد انتہا پسندی‘ کو روکنے کے لیے مہارت کا تبادلہ کریں گے۔

اس بات اعلان وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کیا۔اس مقصد کے لیے بنائی جانے والی دونوں ملکوں کی مشترکہ ٹاسک فورس چھ ماہ کے اندر اندر دونوں رہنماؤں کو رپورٹ دے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ، دولتِ اسلامیہ سے لڑنے والی زمینی فوجوں کی مدد کے لیے مزید غیرمسلح ڈرون تعینات کرے گا۔

برطانوی وزیرِ اعظم واشنگٹن کے دو روزہ دورے پر ہیں۔

امریکا اور برطانیہ کو درپیش کئی ایک خطرات کے پیش نظر، امریکی صدر براک اوباما اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے باہمی تعاون کو تقویت دینے کا عہد کیا ہے، جس میں سائبر سکیورٹی شامل ہے۔

دونوں سربراہان نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ یہ فیصلہ فوری نوعیت کے اور بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’باہمی تعاون کو فروغ دینے کا مقصد ہمارے زیریں ڈھانچے کو محفوظ بنانا، ہمارے کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کرنا اور ہمارے لوگوں کی ’پرائیویسی‘ کو برقرار رکھنا ہے‘۔

یہ اقدام 24 نومبر کو ’سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ‘ پر تباہ کُن حملوں اور اس ہفتے ’امریکی سنٹرل کمانڈ‘ کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس کی ہیکنگ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ سنٹرل کمانڈ کے سماجی میڈیا اکاؤنٹس امریکی قیادت میں عراق اور شام میں داعش کے خلاف جاری فضائی حملوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

صدر اوباما اور وزیر اعظم کیمرون نے یوکرین میں ملوث ہونے کی پاداش میں، روس کے خلاف سخت تعزیرات جاری رکھنے پر بھی رضا مندی کا اظہار کیا۔ دونوں راہنماؤں نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کا بھی عہد کیا، ایسے میں جب وہ ان پابندیوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں، جنھیں مسٹر اوباما نے ’اہم جمہوری اصلاحات‘ قرار دیا۔

بات چیت میں ایران کے موضوع کو خاصی اہمیت حاصل رہی۔ مسٹر کیمرون نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ دونوں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’یقینی طور پر پُر عزم‘ تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں