سلامتی کونسل کی لیبیا پر پابندیاں عاید کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا میں متحارب فریقوں کے درمیان مفاہمتی بات چیت کی مساعی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ساتھ ہی دھمکی دی ہے کہ رواں ہفتے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہوئے تو لیبیا پر پابندیاں عاید کی جا سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا کی متوازی حکومتوں کے نمائندگان اقوام متحدہ کی نگرانی میں ملک میں جاری کئی ماہ کے سیاسی بحران کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں تاہم مذکرات کا پہلا دور کسی اہم پیش رفت کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ دوسرا دور رواں ہفتے ہو گا جس کی کامیابی کا امکان دیکھاجا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے فریقین پر دبائو بڑھانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مبصرین کے خیال میں سلامتی کونسل کی طرف سے تازہ بیان بھی فریقین کو مفاہمت پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔

دو روز قبل طرابلس میں قائم حکومت کے نمائندوں نے مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تاہم فجر لیبیا اور الشروق عسکریت پسندوں کی جانب سے یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔ الفجر اور الشروق کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود مغربی طرابلس میں بھاری توپ خانے سے گولہ باری اور گراڈ راکٹ سے حملے کیے گئے ہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے جاری ایک بیان میں لیبیا میں متوازی حکومتوں کے درمیان مُذاکرات کا خیر مقدم کیا گیا ہے تاہم ساتھ ہی فریقین کو خبردار کیا ہے کہ اگربات چیت ناکام ہوئی تو لیبیا پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں