.

لیبی فوج کا جنیوا مذاکرات کے بعد اعلانِ جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی فوج نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں جنیوا میں مذاکرات کے دوروز بعد جنگ بندی کا اعلان کردیا ہے۔

لیبی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اتوار کی رات گرینچ معیاری وقت کے مطابق 2200 بجے (جی ایم ٹی) سے فائربندی کررہے ہیں''۔البتہ اس نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی اور وہ برسرزمین ہتھیاروں یا گولہ بارود کی نقل وحمل کی بھی نگرانی کرے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اگر فوجیوں پر فائرنگ کی جاتی ہے تو انھیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہوگا''۔اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے مشن نے اس سیز فائر کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ملک میں قیام امن کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد میسمری کا کہنا ہے کہ ''فوج لیبی عوام کے تحفظ کے لیے اپنے فرائض نبھا رہی ہے۔وہ ملک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنائے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑے گی''۔

قبل ازیں جمعہ کو اسلامی جنگجو گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا نے ملک میں جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا اور اس کے لیے یہ شرط عاید کی تھی کہ دوسرے گروپ بھی اس کا احترام کریں۔اس نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں انسانی امداد مہیا کرنےکے لیے محفوظ راستے دینے کا بھی وعدہ کیا تھا۔

فجرلیبیا نے جنیوا میں گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی ثالثی میں امن مذاکرات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ان مذاکرات میں لیبیا کے متحارب دھڑوں نے ملک میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام اور لڑائی ختم کرنے کے لیے ایک لائحہ عمل سے اتفاق کیا تھا۔

لیبی فوج کے اعلان سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فجر لیبیا کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا تھا اور یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جس گروہ نے بھی امن عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی تو اس پر پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز اتفاق رائے سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ''لیبیا میں جاری بحران کا کوئی سیاسی حل نہیں ہے''۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برنارڈینو لیون نے گذشتہ ہفتے جنیوا میں امن بات چیت کے آغاز سے قبل کہا تھا کہ وہ شمالی افریقہ کے اس ملک کو طوائف الملوکی کا مکمل طور پر شکار ہونے سے بچانے کے لیے آخری سعی کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لیبیا اسلامی جنگجوؤں کی آماج گاہ بنتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق: جنیوا میں''مذاکرات کے شرکاء نے طویل غور و خوض اور باہمی تبادلہ خیال کے بعد قومی اتفاق رائے کی ایک حکومت کے قیام اور لڑائی کے خاتمے کے لیے ضروری سکیورٹی انتظامات پر مشتمل ایک ایجنڈے سے اتفاق کیا ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ''شرکاء نے ایک ایسے متحد اور جمہوری لیبیا کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم کا اظہار کیا ہے جس میں قانون کی حکمرانی ہو اور انسانی حقوق کا احترام کیا جائے''۔انھوں نے ایک دوسرے کے زیرحراست اغوا شدہ لوگوں کی رہائی ،خانہ جنگی سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد پہنچانے، ہوائی اڈوں کو کھولنے اور سمندری اور بری حدود کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات سے بھی اتفاق کیا تھا۔اب لیبیا کے متحارب گروپوں کے درمیان آیندہ ہفتے مذاکرات کا اگلا دور ہوگا۔

واضح رہے کہ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے ساڑھے تین سال کے بعد بھی امن قائم نہیں ہوسکا ہے اور اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان قائم ہیں۔بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پارلیمان اور وزیراعظم عبداللہ الثنی کی حکومت کے دفاتر اس وقت مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق میں قائم ہیں جبکہ دارالحکومت طرابلس میں اس کے متوازی اسلام پسند گروپوں کے اتحاد فجر لیبیا کی حکومت قائم ہے۔