.

فرانس :کواشی برادران کی رازداری سے تدفین

پولیس نے پیرس میں اسلام مخالف مظاہرے پر پابندی عاید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حکام نے توہین آمیزخاکے شائع کرنے والے اخبار چارلی ہیبڈو پر حملے میں ملوث دونوں مشتبہ بھائیوں کی بڑی رازداری سے گم نام قبروں تدفین کردی ہے اور پولیس نے پیرس میں اتوار کو نکالی جانے والی اسلام مخالف ریلی پر پابندی عاید کردی ہے۔

سعید کواشی اور ان کے چھوٹے بھائی شریف کواشی نے 7 جنوری کو دارالحکومت پیرس میں چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر گھس کر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں آٹھ صحافیوں سمیت بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یہ دونوں بھائی دو روز بعد 9 جنوری کو فرانسیسی پولیس کی کارر؛وائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سعید کواشی کو پیرس سے ایک سوچوالیس کلومیٹر مشرق میں واقع شہر ریمس میں ہفتے اور اتوار کی درمیان شب قبرستان میں کسی نامعلوم قبر میں اتار دیا گیا ہے۔وہ اپنی ہلاکت سے قبل اسی شہر میں رہتے رہے تھے۔

ریمس شہر کے حکام نے ان کی اپنے شہر کے قبرستان میں تدفین پر اعتراضات کیے تھے اور اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ انتہا پسند ان کی قبر کو مزار بنا سکتے ہیں۔سعید کواشی کی بیوہ کے وکیل انتوئن فلیسکوائر نے کہا ہے کہ ان کی تدفین انتہائی غیر محتاط طریقے اور بے توقیری کے ساتھ کی گئی ہے اور بیوہ کو بھی اپنے خاوند کی میت نہیں دیکھنے دی گئی ہے تاکہ ان کو یا کسی اورعزیز کو قبر کا پتا نہ چل سکے۔

ریمس کے میئر آرنوڈ روبینیٹ نے جمعرات کو ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا تھا کہ ''میں شہر میں ایسی قبر نہیں چاہتا جو جنونیوں کو اپنی جانب راغب کرے اور میں ایسی جگہ بھی نہیں چاہتا جہاں سے نفرت کو فروغ ملے''۔قبل ازیں شہری حکام نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعید کواشی کی کسی نامعلوم قبر میں تدفین کی جائے گی تا کہ شہر میں گڑ بڑ اور امن وسکون کو تباہ کرنے کا کوئی امکان ہی نہ رہے۔

ان کے چھوٹے بھائی کو پیرس کے نواح میں واقع علاقے گینولییے میں سخت سکیورٹی میں کسی گم نام قبر میں دفن کردیا گیا ہے۔وہ اپنی موت سے قبل اسی علاقے میں رہتے تھے۔جنازے میں ان کے کسی رشتے دار نے شرکت نہیں کی۔قبل ازیں مئیر روبینیٹ نے کواشی خاندان کی دونوں بھائیوں کی ریمس میں تدفین کی درخواست کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے فرانسیسی پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والے ایک اور دہشت گرد کی تدفین کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔سیاہ فام آمدی کولیبالی نے 9 جنوری کو یہود کے ملکیتی کوشر اسٹور پر حملہ کرکے پانچ افراد کو ہلاک کردیا تھا اور وہ بعد میں خود پولیس کی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

اسلام مخالف مظاہرے پر پابندی

درایں اثناء پیرس کی پولیس نے اتوار کو شہر میں اسلام مخالف مظاہرے پر پابندی عاید کردی ہے۔پیرس کے انتظامی ٹرائبیونل نے ہفتے کے روز پولیس کو فرانس کے دوانتہا پسند گروپوں کی جانب سے اسلام کے خلاف نکالی جانے والی ریلی پر پابندی کی اجازت دے دی تھی۔

ان میں سے ایک گروپ کا کہنا تھا کہ وہ اب ایک نیوز کانفرنس کرے گا۔اس مظاہرے کے ایک اور منتظم گروپ ''مزاحمت جمہوریہ'' نے پابندی کے بعد دو جنوبی شہروں بارڈیوکس اور مونٹپلائیر میں ریلیاں نکالنے کا اعلان کررکھا ہے۔