.

ایرانی جوہری تنازعہ، عالمی طاقتوں کا بند کمرے میں غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر ایران کے ساتج مذاکرات کرنے والی دنیا کی چھ بڑی طاقتوں نے اس بارے میں تازہ ترین صورت حال پر غور کیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی کانگریس کی جانب سے امکانی اقتصادی پابندیوں کی تیاریوں سے ہونے والے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

جنیوا میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے سیاسی زعماء نے امریکی و ایرانی وزرائے خارجہ کی ملاقات کے علاوہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران جنیوا اور پیرس میں ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے بعد سامنے آنے والے مختلف فریقوں کے موقف کو دیکھا۔

چھ ملکوں کا تازہ ترین اجلاس یورپی یونین کی پولیٹیکل ڈائریکٹر ہیلگا سکیمڈ کے زیر صدارت بند کمرے میں ہوا۔ امریکا کی قائم مقام نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے امریکی وفد کی قیادت کی، ایرانی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ تاہم انہوں یہاں پہنچنے پر میڈیا سے کوئی بات نہیں کی ہے۔

البتہ ایک سفارتکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا آج کے اجلاس کا مقصد حالیہ دنوں میں ہونے والی تمام ملاقاتوں کے بعد آگے بڑھنے کے لیے راستہ متعین کرنا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر براک اوباما نے امریکی کانگریس کو خبردار کیا ہے کہ ایران کےخلاف نئی اقتصادی پابندیوں سے سفارتی محاذ پر ہونے والی کوششوں کو سخت دھچکا لگ سکتا ہے۔

امریکی صدر نے ڈیموکریٹ ارکان کانگریس سے کہا ہے کہ اگر اقتصادی پابندیوں کا بل ان کے سامنے لایا گیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔ برطاوی وزیر اعظم بھی فوری مزید پابندیوں کے حق میں نہیں ہیں۔

اس بارے میں چین کے سفیر نر کہا ''وقت تیزی سے گذر رہا ہے ، تاہم چین کو امید ہے کہ تمام فریق اس تارخی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہ صرف عملی اور لچکدار انداز اختیار کریں بلکہ بھر پور سیاسی ارادے کا بھی مظاہرہ کریں تاکہ مسئلہ حل ہو سکے۔''